نواز لیگ نے فوجی چھاؤنیوں میں انتخابی نعرہ کیوں بدلا؟

حالیہ کنٹونمنٹ بورڈ الیکشنز میں نواز لیگ نے اپنا ‘ووٹ کو عزت دو’ کا مزاحمتی نعرہ ترک کرتے ہوئے ‘کام کو ووٹ دو’ کا نعرہ استعمال کیا۔ اس کی بنیادی یہ تھی کہ الیکشن فوجی چھاونی والے علاقوں میں ہو رہے تھے اور پارٹی کی مفاہمتی قیادت کا خیال تھا کہ بھائی لوگ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ استعمال کرنے پر ناراض ہوں گے لہذا الیکشن میں اچھے نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ چنانچہ ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں نواز لیگ نے اپنے جلسوں، بینرز اور پوسٹرز میں کام کو ووٹ دو کا نعرہ استعمال کیا اور عزت کا لفظ حذف کر دیا۔ یاد رہے کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ نواز شریف کا ہے جبکہ شہباز شریف کا نعرہ کام کو ووٹ دو کا ہے۔
پاکستان کی سیاست نت نئے سیاسی نعروں سے عبارت ہے۔ یہ نعرے کبھی تو شعوری طور پر مہم کا حصہ بنائے جاتے ہیں یا حادثاتی طور پر وجود میں آجاتے ہیں۔ چاہے پیپلزپارٹی کا نعرہ ’روٹی کپڑا مکان ہو‘ یا تحریک انصاف کا ’نیا پاکستان‘ اور پھر مسلم لیگ ن کا ’ووٹ کو عزت دو‘ ہو، ہر نعرے کی اپنی الگ پہچان ہے۔ تاہم حالیہ سیاسی تاریخ میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بظاہر طاقتوت فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک مہم ہے جس کا ن لیگ کے قائد نواز شریف اکثر اپنی تقاریر میں ذکر کر چکے ہیں۔ لیکن اردو نیوز کی رپورٹ کے مطارق اس نعرے کے ساتھ دلچسپ واقعہ یہ ہوا کہ حال ہی میں فوجی چھاؤنیوں کے بورڈز کے انتخابات میں یہ نعرہ استعمال نہیں کیا گیا۔
بتایا گیا یے کہ جب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت نے اقتدار سے باہر کیا اس وقت سے لے کر اب تک یہ پہلے عوامی انتخابات ہیں جہاں صرف ’کام کو ووٹ دو‘ کا نعرہ لگایا گیا۔
بظاہر کم اہمیت کے حامل کنٹونمنٹ بورڈز یا فوجی چھاؤنیوں کے بورڈز کے انتخابات 12 ستمبر کو ملک بھر میں ہوئے، جبکہ پنجاب سے مسلم لیگ ن کی کامیابی نے ایک دفعہ پھر سیاسی پنڈتوں کے کان کھڑے کر دیے ہیں۔ پنجاب کے دو اہم ترین شہروں راولپنڈی اور لاہور میں مسلم لیگ نون نے تحریک انصاف کا تقریبا صفایا کردیا۔ یہ انتخابات بلدیاتی نوعیت کے ہوتے ہیں جن میں فوجی چھاؤنیوں کے سول انتظامی معاملات چلانے کے لیے یہاں کے رہائشی اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ اگر لاہور کینٹ میں والٹن روڈ سے داخل ہوں تو الیکشن گزرنے کے کئی روز بعد بھی ہزاروں کی تعداد میں بینرز اور اشتہار سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں جن میں مسلم لیگ ن کا انتخابی نشان شیر اور اس پر لکھا ہوا ’کام کو عزت دو‘ کا نعرہ دیکھا جا سکتا ہے۔
امیدواروں کے بینرز اور تصاویر بھی بہت کم ہیں جس سے بظاہر نظر آتا ہے کہ ان انتخابات میں ن لیگ نے اپنی سیاسی حکمت عملی بدلی ہے۔
وارڈ نمبر دو سے منتخب ہونے والے مسلم لیگ ن کے امیدوار قاری حنیف سے جب پوچھا گیا کہ اس مرتبہ ان کی الیکشن کیمپین میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ کیوں نظر نہیں آیا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ہمیں تو جو قیادت حکم دے گی ہم نے وہی کرنا ہے۔ چونکہ یہ علاقہ سعد رفیق کے حلقے میں آتا ہے لہازا انہوں نے جو کہا ہم نے لکھوا دیا۔ ویسے بھی میں خود بھی کام کو ووٹ دو کے نعرے کا زیادہ قائل ہوں کیوںکہ مسلم لیگ ن کا اصل ٹریڈ مارک تو کام ہی ہے۔ قاری حنیف نے بتایا کہ حیرت انگیز طور پر خواتین کے پولنگ بوتھس سے مسلم لیگ ن کے ووٹوں کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ نکلی ہے۔ یعنی جب عورتیں کسی جماعت کے خلاف ہو جائیں تو اسے شکست سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اور ویسے بھی جتنی مہنگائی ہے اور جو حالات ہیں کام کو ووٹ دو بہترین نعرہ ہے۔‘
شہروں میں فوجی چھاؤنیاں اس طرز پر ہیں کہ ان کے بڑے علاقے سول آبادی اور کاروباری مراکز کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ گیریژن کے علاقوں میں امیدواروں کو اشتہار اور بیرنرز لگانے کی اجازت نہیں تھی۔ ملک بھر کی کُل 42 چھاؤنیوں میں 219 نشستوں پر یہ انتخابات منعقد ہوئے۔ پر حتمی نتائج کے مطابق پنجاب کی 119 نشستوں میں سے ن لیگ 48 جبکہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف 31 سیٹیں جیت پائی، جبکہ لاہور راولپنڈی اور واہ کینٹ میں بھی تحریک انصاف بری طرح ہاری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ ن کی سیاسی حکمت عملی میں ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ پیچھے چلا گیا ہے؟ اس کا جواب مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود نے دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ کہنا بالکل غلط ہے۔ ہمارا نعرہ پیچھے نہیں گیا، بلکہ اس وقت عوام کی جو حالت ہے اور جس طریقے سے یہ نااہل حکومت معاملات چلا رہی ہے ایسے میں قیادت نے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ کیمپین کیسی کرنی ہے۔ اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو اور کام کو ووٹ دو کے نعروں میں کوئی فرق نہیں۔ اگر ووٹ کو عزت ملے گی تو کام کو ووٹ ملے گا۔ اس کو کسی اور تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔‘
خیال رہے کہ مسلم لیگ ن میں بیانیے کی کشمکش کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ نواز شریف کا ہے تو جھگڑے کی سیاست سے بچنے والے شہباز شریف کا نعرہ کام کو ووٹ دو ہے۔ 2018 کے انتخابات میں یہ دونوں نعرے ایک ہی وقت میں ایک ہی طاقت سے نظر آئے البتہ فوجی چھاؤنیوں کے بورڈز کے انتخابات میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ سرے سے نظر ہی نہیں آیا۔ تاہم نواز شریف نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران حال ہی میں یہ دعوی کیا تھا کہ حالیہ کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن میں مسلم لیگ نون کی بہترین کارکردگی ووٹ کو عزت دو کے مزاحمتی بیانیے کا نتیجہ تھی۔
