افغان طالبان اب پاکستان کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے والے ہیں

معروف صحافی اور کئی کتابوں کے مصنف محمد حنیف نے کہا ہے کہ وہ دن قریب یے جب ریاست پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا طالبان ہمارا اثاثہ ہیں یا ہم طالبان کا اثاثہ بن چکے ہیں۔ فیصلہ یہ بھی کرنا ہے کہ جب طالبان پہاڑوں سے اتر کر ہمیں بہتر مومن بنانے کی خاطر ہماری طرف لپکیں گے اور ہماری مسجدوں اور سکولوں کا رخ کریں گے تو اللہ اکبر کا پہلا نعرہ انہیں لگانے دینا ہے یا ہم نے لگانا ہے۔
بی بی سی کے لئے اپنے تازہ کالم میں محمد حنیف لکھتے ہیں کہ ‘جب کابل شہر میں دھماکہ ہوتا ہے تو حملے کا نشانہ بننے والے پکار اٹھتے ہیں ’اللہ اکبر‘۔ مجھے یقین ہے کہ حملہ کرنے والوں نے بھی نعرہ تکبیر بلند کیا ہو گا۔سینکڑوں میل دور بیٹھے ہوئے ہمارے پاکستانی بھائی اور بہنیں پکار اٹھتے ہیں ’سبحان اللہ‘۔ کچھ طالبان کے جذبہ جہاد پر اور کچھ ان کے حوصلے پر جو طالبان کے ہاتھوں اپنے بچے مروا کر بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہیں۔ جیسے جیسے طالبان پہاڑوں سے اُتر کر شہروں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور گلیوں میں لاشیں گِرا رہے ہیں، ہمارے سیاسی، مذہبی، عسکری اور موسمی دفاعی تجزیہ نگاروں کا جوش و جذبہ قابل دید ہے۔ ’چشم ماروشن‘، ’دل ماشاد‘، ’جی آیا نوں‘، ’تم آئے بہار آئی‘ قسم کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔
حنیف کہتے ہیں کہ ہم نے 20 سال پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کابل کے وارث طالبان ہیں اب وہ کابل پر چڑھائی کر کے کشتوں کے پشتے لگائیں گے۔ مومن مومن سے لڑے گا فتح طالبان کی ہو گی۔ ہم اپنے گھروں میں بیٹھ کر اس جہاد میں ایک اِخلاقی فتح حاصل کریں گے۔ صوفوں پر بیٹھے بیٹھے اس جہاد میں اپنا حصہ ڈالیں گے اور ثواب کمائیں گے۔ اگر اتنا خون نہ بہہ چکا ہوتا تو ہم شاید کہہ سکتے تھے کہ ہماری طالبان کے ساتھ ایک اتنی پرانی لو سٹوری چل رہی ہے جس میں سات خون بھی معاف ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے اس پیار کے شوق میں سرکار خود کہتی ہے کہ 70 ہزار پاکستانیوں کی جانیں جا چکی ہیں جن میں فوجی سکول میں پڑھنے والے بچے بھی شامل ہیں اور برقعہ پوش عورتیں بھی، جو گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں۔
حنیف لکھتے ہیں کہ بڑی قوتوں کو بڑے مقاصد کے لیے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے، دونوں طرف سے اللہ اکبر کے نعرے بلند کرنے والے ہمارے مومن اور لبرل اس بات پر متفق ہیں کہ ہم نے بڑی قربانی دی ہے۔آج تک اس قربانی کا مقصد ہمیں کوئی نہیں سمجھا پایا۔ اور اب یہ وقت آن پڑا ہے کہ نہ تو ہمیں طالبان سے لڑنے کے لیے کوئی دیہاڑی دینے کو تیار ہے اور نہ ہی طالبان کو سادہ لباس والے، ذہین اور معصوم کہنے پر شاہ محمود قریشی کو کوئی امن کا میڈل ملنے والا ہے۔ادھر ہمارے کچھ ریٹائرڈ جنرل حضرات اور حاضر سروس صحافی بھائی طالبان کی واپسی پر بھنگڑا ڈال رہے ہیں۔ ھنیف اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ کاش جس طرح حال ہی میں ہماری عسکری قیادت نے پارلیمان کے دروازے بند کر کے ہمارے منتخب نمائندوں کو آنے والے خطروں کے بارے میں ہوشیار باش کیا ہے، ویسی ہی ایک کلاس جشن منانے والے سابقہ جرنیلوں کے لیے ہو جائے اور انھیں ہاتھ باندھ کر سمجھایا جائے کہ طالبان کو بھنگڑے ڈالنے والے پسند نہیں ہیں، چاہے یہ بھنگڑے ان کی حمایت میں ہی ڈالے جا رہے ہوں اور چاہے ڈالنے والے ہمارے قابل احترام ریٹائرڈ جنرل ہی کیوں نہ ہوں۔
حنیف کہتے ہیں کہ طالبان کے سجن، دشمن، ہم اور آپ سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ خون خرابہ امریکہ کا پھیلایا ہوا ہے۔ امریکہ کی ناکامیوں اور نالائقیوں کا ملبہ پہلے افغانوں پر اور پھر لامحالہ ہم پر گِرے گا۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہمیں امریکی صدر بائیڈن کی مِسڈ کال کا اتنی بے چینی سے انتظار کرنا چاہیے یا کسی بند کمرے میں بیٹھ کر آرمی پبلک سکول کے سبز بلیزر والے شہیدوں کی تصویریں دیکھنی چاہییں، اور سوچنا چاہیے کہ اب کیا کرنا ہے۔ ہم نے اے پی ایس سانحے کے مرکزی کردار احسان اللہ احسان کو سیف ہاوس سے فرار ہونے کا موقع دیا، چلیں مان لیتے ہیں کہ احسان اللہ احسان قاتل نہیں صرف قاتلوں کا ترجمان تھا اور اس طرح کی گندی جنگوں میں کبھی کبھی اپنے دشمن کو کمزور کرنے کے لیے اسے ساتھ چلانا پڑتا ہے، اپنے قاتل کو اپنا اثاثہ مان کر چلنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ دن آیا چاہتا ہے کہ جب ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا طالبان ہمارا اثاثہ ہیں یا ہم طالبان کا اثاثہ بن چکے ہیں اور جب وہ پہاڑوں سے اُتر کر ہمیں بہتر مومن بنانے کے لیے ہماری مسجدوں اور سکولوں کا رخ کریں گے تو اللہ اکبر کا پہلا نعرہ وہ لگائیں گے یا ہم۔
