اقتصادی رابطہ کمیٹی کی نجی شعبےکو گندم درآمد کرنےکی اجازت

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ایسی سی) نے نجی شعبے کو گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے تاکہ منڈی میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی اور ملک بھر میں دونوں اجناس کی ارزاں نرخوں پر دستیابی یقینی بنائی جائے۔
کمیٹی کا اجلاس مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔اجلاس میں نجی شعبے کو گندم درآمد کرنے کی منظوری دی گئی تاکہ منڈی میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی اور ملک بھر میں دونوں اجناس کی ارزاں نرخوں پر دستیابی یقینی بنائی جاسکے۔کمیٹی نے نجی شعبے پر گندم کی درآمد کے لیے کوئی حد مقرر نہ کرنے اور صورتحال کا ماہانہ بنیاد پر جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا۔
اجلاس میں تکنیکی ضمنی گرانٹس کے لیے داخلہ ڈویژن کی پانچ تجاویز پر غور کرنے کے بعد ان کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس میں خزانہ ڈویژن کی ایک ارب 30 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی تجویز کی بھی منظوری دی گئی، تاکہ میڈیکل اسٹورز اور پاک بحریہ کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔کمیٹی نے صنعتوں اور پیداوار کی ڈویژن کی تجویز پر ملک میں طبی مقاصد کے لیے آکسیجن گیس اور آکسیجن سلنڈرز کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک پیکج کی منظوری دی، جس کے تحت 3 ماہ کے لیے ان اشیا پر ڈیوٹیوں اور ٹیکس میں کمی کی جائے گی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارتِ صحت اور وزارتِ داخلہ کو آکسیجن کی پیداواری کمپنیوں کو معاہدوں کے قانونی تقاضوں کے تحت تمام واجبات ادا کرنے کی بھی ہدایت کی۔
یاد رہے کہ 7 جون کو وفاقی حکومت نے نجی شعبے کو بغیر کسی حساب کتاب کی پابندیوں کے گندم کی درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ اور اس کی درآمد پر 60 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی ختم کردی تھی۔وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں گندم کی درآمد پر اس وقت قابل اطلاق 6 فیصد اور 2 فیصد اضافی ڈیوٹی ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں وقتاً فوقتاً گندم کا بحران سامنے آرہا ہے جس کے باعث آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔رواں سال 22 اپریل کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے گندم اور چینی بحران کے میگا اسکینڈل کی تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا۔یہ فیصلہ اسلام آباد میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں ہونے والے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا جس میں گندم چینی بحران میں اربوں روپے کی بد عنوانی، قیمتوں میں اضافہ، مبینہ اسمگلنگ اور سبسڈی وغیرہ کی آزادانہ اور تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button