بلوچستان ہائیکورٹ: 10 ویں این ایف سی کی تشکیل کالعدم قرار

بلوچستان ہائیکورٹ نے این ایف سی کے لیے ممبران کی تقرری اور قواعد و ضوابط آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے 10 ویں این ایف سی یعنی قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کالعدم قرار دے دی ہے.
بلوچستان ہائی کورٹ نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ، وفاقی سیکرٹری خزانہ کی این ایف سی کے اراکین کے طور پر تعیناتیاں اور صدر مملکت کی جانب سے بنائے گئے ٹی او آرز کو کالعدم قرار دیتے ہوئے این ایف سی کے اراکین کے تقرر اور این ایف سی کے طریقہ کا ر پر آئین کے آرٹیکل 160پراسکی روح کے مطابق عملدآمد کرنے کے احکامات جاری کردئیے، یہ حکم بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال مندوخیل نے منگل کو این ایف سی ایوارڈ کے ممبران کی تقرری سمیت دیگر امور پر کامران مرتضی ایڈوکیٹ، ساجد تر ین ایڈوکیٹ، رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی سمیت دیگر کی دائر کردہ درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد دیا، چیف جسٹس نے فیصلے میں حفیظ شیخ کی بطور رکن این ایف سی،وفاقی سیکرٹری خزانہ کی بطور فنانشل ماہر، اور صدر مملکت کی جانب سے بنائے گئے ٹی او آرز کو کالعدم قرار دیا ہے جبکہ بلوچستان سے تعینات کئے گئے رکن جاوید جبار نے چونکہ اپنا نام واپس لے لیا ہے لہذا گورنر بلوچستان وزیراعلیٰ بلوچستان یا صوبائی حکومت کی تجویز پر نئے رکن کو مقرر کریں جبکہ این ایف سی کے ارکان کی تقرری اور این ایف سی کے کام کرنے میں آئین کے آرٹیکل 160 پر اسکی روح کے مطابق عملدآمد کیا جائے، فیصلے میں تاکید کی گئی ہے گورنر بلوچستان اور صوبائی حکومت ملکر این ایف سی کے غیر سرکاری رکن کسی ایسی شخصیت کو تعینات کریں کہ جسے بلوچستان کے معاشی مسائل اور اقتصادیات پر دسترس حاصل ہو فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حفیظ شیخ کی تعیناتی میں بھی آئینی تقاضہ پورا نہیں کیا گیا لہذا انکی تعیناتی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے وہ 10ویں این ایف سی ایوارڈ کے رکن کے طور پر کا م نہیں کر سکتے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی سیکرٹری خزانہ بھی آئین کی روح سے این ایف سی کے رکن نہیں بن سکتے لہذا صدر مملکت کی جانب سے انکی تعیناتی بھی غیر آئینی ہے البتہ وفاقی سیکرٹری خزانہ اور صوبائی سیکرٹریز اپنی حکومتوں اور متعلقہ وزراتوں کی اس معاملے میں معاونت ضرور کر سکتے ہیں فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160کے تحت این ایف سی کے کام کرنے کی شرائط وضع ہیں لہذا اس آرٹیکل سے متصادم کوئی بھی حکم غیر قانونی اور غیر آئینی ہے صدر مملکت اور این ایف سی پابند ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین پر عملدآمد کریں، فیصلے میں وفاق اور صوبوں کو حکم دیاگیا ہے کہ وہ فیڈریشن کی مضبوطی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں نہ کہ وفاق یا صوبے اپنے لئے زیادہ سے زیادہ حصے لینے کی تگ و دو کریں فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ 18ویں ترمیم کے بعد بہت سے محکمے صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں جس سے صوبائی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے لیکن جی ڈی پی کم ہونے اور وفاقی و صوبائی حکومت کے اخراجات میں غیر حقیقی اضافے بھی ہوا ہے تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتیں مالی نظم وضبط دیکھانے میں ناکام رہی ہیں جس سے اداروں اور محکموں کے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے اگر ایسی وفاقی حکومت صوبوں کے حصے سے اپنے اخراجات چلائے گئی تو یہ ناپختہ فیصلہ ہوگا،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل160(3A) کے تحت صوبوں کا این ایف سی میں حصہ کم نہیں کیا جاسکتا لہذا وفاقی حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ڈویزبل پول کے ذریعے ریونیو بڑھانے کے لئے طریقہ کار وضع کریگی ساتھ ہی مالی نظم و ضبط سے ریاستی اداروں کو ہونے والے نقصانات پر بھی قابو پائیگی،
خیال رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 12 مئی 2020 کو 10 واں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) تشکیل دیا تھا جس میں بلوچستان سے جاوید جبار کو شامل کیا گیا تھا جس پر حکومتی اتحادی جماعت اور اپوزیشن نے شدید اعتراض کیا تھا تاہم بعدازاں جاوید جبار نے خود ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔
دوسری جانب این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی زیر سماعت ہے جہاں مسلم لیگ (ن) نے کمیشن کو چیلنج کررکھا ہے۔
واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 160 (ون) کے مطابق ہر 5 سال بعد قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) تشکیل دیا جاتا ہے جس میں وفاق اور صوبوں کے وزراء قانونی حیثیت رکھتے ہیں جب کہ ضروری ہے کہ ہر صوبے سے ایک غیر حکومتی رکن بھی شامل ہو۔این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق اپنی کل آمدنی میں سے طے کردہ فارمولے کے تحت صوبوں کو ان کا حصہ دیتا ہے۔این ایف سی ایوارڈ کے تحت اب ملک کی کل آمدن کا 57 فیصد حصہ صوبوں میں آبادی کے تناسب سے تقسیم ہو جاتا ہے جب کہ وفاق کے پاس 43 فیصد بچتا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت نے فروری 2016 میں 9 واں این ایف سی تشکیل دیا تھا۔







