سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ پر کارروائی روک دی

سندھ ہائیکورٹ نے حکومت کو شوگر ملز انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر علمدرآمد سے روک دیا ہے۔ شوگر ملز مالکان کی درخواست پر دو رکنی بنچ کا حکم نامہ جاری، فریقین سے تیس جون کو جواب طلب کرلیا گیا۔
تفصیل کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں چینی انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور دیگر کو شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمد سے روکتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک کسی قسم کی کارروائی نہ کی جائے۔سندھ ہائیکورٹ نے اس سلسلے میں وفاقی حکومت اور دیگر کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ عدالت نے فریقین سے 30 جون کو جواب طلب کر لیا ہے۔ شوگر ملز مالکان کی درخواست پر جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے حکم نامہ جاری کیا۔ شوگرملزمالکان کی جانب سے مخدوم علی خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا کہ کمیشن کی تشکیل غیرآئینی ہے۔کمیشن ممبران پر جانبداری کا الزام بھی عائد کیا گیا، عدالت کو بتایا گیا کہ اس سے قبل جو کمیشن تھا اس میں بھی یہی ممبران شامل تھے۔ اس لیے دوسری انکوائری میں یہ ممبران شوگرملزم مالکان کیخلاف اپنا مائنڈ بنا چکے تھے۔
خیال رہے کہ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ چینی انکوائری کمیشن قانون کے مطابق تشکیل نہیں دیا گیا۔ اس میں شامل ممبران نے جانبداری کا مظاہرہ کیا۔ کسی بھی درخواست گزار کو معلومات اور وضاحت نہیں لی گئی۔ شوگر کمیشن کی رپورٹ کے بعد یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ تمام شوگر ملز غیر قانونی کام کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چینی انکوائری رپورٹ کیخلاف دائردرخواست پر کیس کی سماعت کی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمد کیخلاف حکم امتناع خارج کردیا تھا، عدالت نے تمام متعلقہ اداروں کو چینی مافیا کیخلاف کاروائی کی اجازت دے دی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے4 صفحات پر مشتمل مختصر فیصلے میں چینی انکوائری کمیشن کی تشکیل درست قرار دی۔ تاہم عدالت نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے تحت وفاقی حکومت کیس نیب کو بھیج سکتی ہے۔ وفاقی حکومت کا چینی کیس پر اختیارات شہزاد اکبر کو تفویض کرنا درست نہیں۔ وفاقی حکومت اپنے اختیارات کسی کو تفویض نہیں کرسکتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button