اقدامات کے باوجود انسانی سمگلنگ کیوں کم نہ ہو سکی؟

ابتر ملکی حالات نے پاکستانی نوجوانوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اقدامات کے باوجود انسانی سمگلنگ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، انسانی سمگلرز پہلے سے زیادہ متحرک ہو کر کام کر رہے ہیں جبکہ نئے روٹس سمیت دیگر غیرقانونی ہتھکنڈے بھی آزما رہے ہیں۔سادہ لوح نوجوانوں کو لوٹنے والے جعلی اور غیرقانونی ٹریول ایجنٹوں اور ایجوکیشن کنسلٹنٹس کے خلاف ایف آئی اے نے خفیہ اطلاعات پر کاروائیاں شروع کر دی ہیں، ’’امت‘‘ کو ایف آئی اے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اگر کوئی ٹریول ایجنٹ بیرون ملک جانے کے امیدوار سے مقررہ فیس سے زائد وصول کرے تو اس کے خلاف فوری طور پر امیگریشن کی زیر دفعہ 22A کے تحت مقدمہ قائم ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی ایجو کیشن کنسلٹنٹ بغیر لائسنس کے ٹریول ایجنٹ کی حیثیت سے یا اوورسیز ایمپلائنمنٹ پروموٹرز کی طرح شہریوں سے پاسپورٹ وصول کر کے اور فیس لے کر بیرون ملک بھیجوانے کے مراحل طے کرے تو اس پر زیر دفعہ 22Bکے تحت انسانی اسمگلنگ کا مقدمہ قائم ہو سکتا ہے جن میں 7سے 14برس قید کی سزا اور لاکھوں روپے جرمانے بھی ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایسے ملزمان پر انسداد انسانی اسمگلنگ اور امیگریشن اور پاسپورٹ ایکٹ کے ساتھ ہی پی پی سی کی زیر دفعہ 420کی کارروائی بھی مقدمات کا حصہ بنائی جاسکتی ہے۔اسی طرح سے اگر کسی ایجنٹ کے ذریعے جانے والا شہری جعلی یا مشکوک دستاویزات پر سفر کرتا ہوا گرفتار ہو جائے یا ڈی پورٹ ہو کر واپس آ جائے تو ایسے شہریوں کو حراست میں لے کر تفتیش کی جاتی ہے لیکن اگر اب ایجنٹ قصوروار ثابت ہوا تو اس کیخلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے گا۔ایف آئی اے ذرائع کے بقول ان چاروں متعلقہ قوانین کی دفعات کے تحت اگر غیر قانونی ایجنٹوں کے خلاف بھرپور قسم کے مقدمات بنائے جاتے رہتے تو بہت پہلے ہی انسانی اسمگلروں کے خلاف ادارے کی رٹ قائم کی جا سکتی تھی اوراب تک ہزاروں شہریوں ان کی جمع پونجی سے محروم ہونے اور سزا بھگتنے سے بھی بچایا جا سکتا تھا۔حالیہ عرصہ میں لیبیا اور یونان میں کشتیوں کے حادثات میں سینکڑوں پاکستانیوں کے ڈوبنے کے واقعات سامنے آنے کے بعد حکومت کی ہدایات پر ایف آئی اے کی جانب سے ایسے جعلی ایجنٹوں کے خلاف ملک بھر میں کارروائیاں تیز کی گئیں جو کہ شہریوں کو پہلے وزٹ ویزوں پر لیبیا ،ترکی اور آسٹریا کے علاوہ افریقی ممالک لے کر جاتے ہیں۔اس وقت کام کرنے والے غیر قانونی ایجنٹوں میں زیادہ تر ایسے نام نہاد ایجو کیشن کنسلسٹنٹ بھی شامل سرگرم ہیں جوکہ خصوصی طور پر نوجوانوں کو ایجوکیشن ویزوں پر مختلف ممالک بجھوانے کے سہانے خواب دکھا کر لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں، یہ کنسلٹنٹ تمام کے تمام غیر قانونی کام کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس شہریوں سے پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات وصول کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔اسی طرح سے کئی ایسے موسمی گروپ بھی سرگرم ہوچکے ہیں جن کے رابطے یورپی ممالک اور افریقی ممالک میں موجود بعض ایسے پرانے پاکستانیوں سے ہوئے ہیں جوکہ بعض مشکوک کمپنیوں اور اداروں کے نام پر ورک پرمٹ وغیرہ دلوانے کا جھانسا دے کر نوجوانوں سے لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں۔ایسے گروپوں کی جانب سے نوجوانوں کو دئے گئے سفری دستاویزات پر جانے والے درجنوں شہری یا تو ایئر پورٹس سے گرفتار ہوگئے یا پھر ان کو بیرون ملک سے واپس ڈی پورٹ کر دیا گیا اور جو بیرون ملک پہنچنے میں کامیاب بھی ہوئے انہیں جن شرائط پر بلایا گیا تھا وہ تنخواہیں اور کمپنی مراعات نہیں ملیں بلکہ پھر انہیں دوسرے کام تلاش کرنے پڑے یا پھر گھروں اسے مزید رقوم منگوا کر دوسرے ملکوں کی جانب غیر قانونی طور پر جانا پڑگیا۔
