اقوام متحدہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کی توثیق کیسے کرے گا؟
افغان طالبان کے ساتھ دس سالہ جنگ ختم کرتے ہوئے ان سے امن معاہدہ کرنے کے بعد امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو طالبان سے ہونیوالے معاہدے کی باقاعدہ ووٹنگ کے ذریعے توثیق کی درخواست کر دی ہے جس پر دنیا کے دیگر ممالک کی طرف سے حیرانی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلی ایک دہائی سے واشنگٹن انتظامیہ افغان طالبان کو دہشت گردوں کا گروہ قرار دے رہی تھی۔ ویسے بھی امریکہ کا ایک جنگجو گروپ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی اقوام متحدہ سے توثیق کروانے کی کوشش اس لیے بھی عجیب ہے کہ اقوام متحدہ صرف دو ممالک کے مابین کسی معاہدے کی توثیق کر سکتی ہے جبکہ طالبان نان سٹیٹ ایکٹرز ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک کے سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو طالبان کے ساتھ امن معاہدے کی توثیق کی درخواست دے کر ایک غیر معمولی حرکت کی ہے کیونکہ یہ معاہدہ ایک ملک اور ایک جنگجو گروپ کے مابین ہے، اور اقوام متحدہ کے دو ممبران ممالک کے درمیان نہیں ہے۔ عالمی سفارت کار اس بات پر حیران ہیں کہ اس معاہدے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے دو خفیہ دستاویز شامل ہیں جن کو کونسل کے اراکین بغیر پڑھے منظور کیسے کریں گے؟
یاد رہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوئے تھے جبکہ امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے متعلق یورپی یونین، برطانیہ، اقوام متحدہ اور امریکہ کے خصوصی نمائندوں نے دوحہ میں یکم مارچ کو ملاقات بھی کی جس کے بعد ان نمائندوں کا مشترکہ بیان امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیا گیا۔
اس بیان کے مطابق افغانستان میں جامع اور پائیدار امن افغانوں کے مابین بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یورپی یونین، برطانیہ، اقوام متحدہ نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بین الافغان مذاکرات میں جنگ بندی ہو۔ مشترکہ بیان میں افغانوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جلد از جلد باہمی اختلافات کے امورپر بات چیت کی جائے۔ تاہم اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ طالبان اور افغان حکومت میں مذاکرات تو دور کی بات حکومت کے اندر ہی دو گروپ بن چکے ہیں اور افغانستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک کے ایک نہیں بلکہ دو صدور ہیں۔ یاد رہے کہ 9 مارچ کے روز کابل میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں نے دو مختلف تقاریب میں افغانستان کے نئے صدر کا حلف لیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان میں قیام امن اور جنگ بندی کے لیے افغان طالبان کس کی حکومت سے مذاکرات کریں گے۔
امریکہ اور طالبان امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے یہ فیصلہ کرنا بھی ضروری ہے کہ امریکی انتظامیہ افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کو تسلیم کرے گی یا عبداللہ عبداللہ کی حکومت کو۔ امن معاہدے کے تحت 9 مارچ کو افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا بھی شروع ہو گیا ہے تاہم یہ انخلا ایسے ماحول میں شروع ہوا ہے جب افغانستان کے دو حریف رہنماﺅں نے الگ الگ تقریبات میں ملک کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے اور ابھی تک افغان عوام میں یہ کنفیوژن برقرار ہے کہ ملک کا اصل حکمران کون ہے؟ ان حالات میں امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو افغان طالبان کے ساتھ کیے جانے والے امن معاہدے کی باضابطہ توثیق کا مطالبہ کرنا کافی حیرت ناک ہے جب کہ پچھلے 10برس سے واشنگٹن افغان طالبان کو دہشت گرد قرار دے رہا تھا۔
