امن معاہدہ: دو دہائیوں بعد افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء شروع

نائن الیون حملوں کے ردعمل میں افغانستان پر قبضہ کرنے والی امریکی افواج نے قریب دو دھائیاں افغان طالبان کے ساتھ جنگ کرنے کے بعد اب ان کیساتھ ایک امن معاہدہ کرکےافغانستان سے اپنے فوجیوں کا انخلاء شروع کردیا ہے۔ امریکہ نے پہلی قسط کے طور پر اپنے 4400 فوجی بگرام ایئربیس سے واپس روانہ کر دئیے ہیں۔ افغانستان میں 8600 امریکی فوجی موجود رہیں گے جبکہ 8ہزار امریکی فوجی 14 ماہ کے اندر افغانستان چھوڑ دیں گے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو ہونے والے تاریخی امن معاہدے کی ایک شرط کے تحت امریکہ نے 135 دن کے اندر افغانستان میں اپنی فوج کو 12 ہزار سے کم کرکے 8600 کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ جواب میں طالبان نے غیر ملکی قیدیوں کو اور امریکہ نے افغان طالبان کے قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ابتدا میں کہا تھا کہ وہ عسکریت پسند گروپ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی شرط کے طور پر طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کے معاہدے پر عمل نہیں کریں گے لیکن اب اشرف غنی نے 9 مارچ کو دوسری مدت کےلیے صدر کے عہد کا حلف اٹھانے کے بعد ایک ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا حکم جاری کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
اس سے پہلے گزشتہ ہفتے امریکہ کی جانب سے افغان صوبے ہلمند میں افغان فورسز پر طالبان جنگجوؤں کے حملے کے جواب میں ایک فضائی حملہ کے بعد امن معاہدہ ٹوٹتا دکھائی دیا تھا۔ طالبان نے جنگی کارروائیوں میں کمی کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کے ترجمان کرنل سونی لیگٹ نے امریکی فوجیوں کے انخلا کے پہلے مرحلے کا اعلان کیا۔ کرنل لیگٹ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے فوجیوں کی واپسی کے باوجود افغانستان میں ’اپنے تمام مقاصد کے حصول کےلیے تمام فوجی وسائل اور حکام کو برقرار رکھا ہے۔‘
امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے عسکریت پسندوں کی جانب سے معاہدے کو برقرار رکھنے کی صورت میں 14 ماہ کے اندر تمام فوج واپس بلانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت، افغان عسکریت پسندوں نے حملوں سے باز رہنے کے ساتھ ساتھ القاعدہ یا کسی اور شدت پسند گروہ کو اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں آپریشن کرنے کی اجازت نہ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ نے ستمبر 2001 میں نیویارک میں القاعدہ کے حملوں کے بعد افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ طالبان کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا لیکن وہ ایک شورش پسند قوت بن گئے اور سنہ 2018 تک ملک کے دوتہائی سے زائد حصے پر متحرک رہے۔اس جنگ کے دوران امریکی فوج کے 2400 سے زیادہ فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔
9 مارچ 2020 کو افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا آغاز ہونے کے بعد ملک میں تازہ سیاسی عدم استحکام نے تمام فریقوں کے مابین مذاکرات کے امکان کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ گذشتہ برس متنازع افغان انتخابات کے بعد 9 مارچ کو دو مختلف صدور کےلیے الگ الگ حلف برداری کی تقریبات ہوئی۔ افغانستان کے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ موجودہ صدر اشرف غنی نے گزشتہ برس ستمبر کا انتخاب معمولی اکثریت سے جیتا تھا مگر عبداللہ عبد اللہ نے الزام عائد کیا کہ یہ نتیجہ جعلی ہے۔ تاہم اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں نے افغانستان کے نئے صدرکی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button