الطاف حسین کو پکڑنے کی ناکام کوشش میں قومی خزانے کا جھٹکا


کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کے مصداق متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم سربراہ کو عمران فاروق قتل کیس میں اشتہاری قرار دلوا کر پاکستانی عوام کی جیبوں سے کروڑوں روپے لٹانے کے بعد بھی اسے واپس لانے کی حکومتی کوششیں ناکامی پر منتج ہوئیں ہیں۔

حکومت پاکستان نے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کے خلاف مقدمات لڑنے والی برطانوی لا فرم کو حال ہی میں 8 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد ادا کرنے کی منظوری دی ہے۔ فروری اور اکتوبر 2018 کے دوران اس فرم کو ادا کیے گئے تقریباً 5 کروڑ 10 لاکھ روپوں کے علاوہ اس رقم کے ساتھ ادا کی جانے والی مجموعی رقم 13 کروڑ 50 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی عدالتیں ایم کیو ایم کے رہنما عمران فاروق قتل کیس میں الطاف حسین کو اشتہاری قرار دے چکی ہیں، اس کے علاوہ قتل و غارت اور ڈکیتیوں سمیت غداری جیسے سنگین جرائم میں بھی الطاف حسین کا نام شامل رہا ہے۔ اسکے علاوہ حکومت پاکستان نے الطاف حسین کے خلاف برطانیہ میں منی لانڈرنگ کا کیس بھی دائر کر دیا، حکومت کو خوش فہمی تو یہی تھی کہ ڈھیروں ڈالرز واپس آئیں گے۔ لیکن واپس تو کچھ بھی نہیں آیا لیکن کروڑوں روپے چلے گئے۔
اگر حقیقت کو مدنظر رکھا جائے تو حکومت پاکستان کی طرف سے الطاف حسین کے خلاف بیرون ممالک کی جانے والی اب تک کی ساری قانونی کارروائیوں میں اس کا بال بھی باکا نہیں ہوا جبکہ اس قانونی عمل کی پیروی کی مد میں حکومت پاکستان نے جس انٹرنیشنل لا فرم کی خدمات لی تھیں اسکا پیٹ بھرنے کے لیے 135ملین روپے کا پاکستانی خزانے کو فیسون کی صورت میں چونا لگ چکا ہے اور ابھی یہ کیسز ختم نہیں ہوئے۔ 15 کروڑ سے زائد کی ادائیگی کے بعد بھی حکومت پاکستان الطاف حسین کو نہ تو پاکستان واپس لا سکی اور نہ ہی اس کی جیب سے کچھ نکلوانے میں کامیاب ہوئی۔

اب وزارت خزانہ سے جاری بیان کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت داخلہ کے لیے 6 کروڑ 74 لاکھ 59 ہزار روپے کی منظوری دی یے تا کہ برطانیہ میں مقدمات لڑنے کے لیے جن قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی تھیں انہیں ادائیگی کی جاسکے۔ وزارت داخلہ نے اصل میں میسرز گویرنیکا انٹرنیشنل کو 8 کروڑ 40 لاکھ روپوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا تاہم قانونی اور مالی قواعد کی حد کم ہونے کی وجہ سے ای سی سی نے 6 کروڑ 74 لاکھ 59 ہزار روپے کی ایک ضمنی گرانٹ منظور کی گئی جبکہ وزارت داخلہ اپنے بجٹ سے ایک کروڑ 64 لاکھ روپے کی ادائیگی علیحدہ کرے گی۔ خیارل رہے کہ فروری 2019 سے جنوری 2020 تک کے عرصے کی دوسری انگیجمنٹ کے واجبات ادا کرنے کے لیے 6 کروڑ 74 لاکھ 59 ہزار روپے کی ایک ضمنی گرانٹ منظور کی گئی، نومبر 2018 سے جنوری 2019 تک کے پہلے کانٹریکٹ کے بقیہ ایک کروڑ 64 لاکھ روپے وزارت داخلہ اپنے بجٹ سے خود ادا کرے گی۔ میسرز گویرنیکا انٹرنیشنل کی خدمات الطاف حسین کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس، منی لانڈرنگ کیس اور اشتعال انگیزی کو ہوا دینے کے مقدمے کے لیے حاصل کی گئی تھیں۔ لا فرم اور حکومت پاکستان کے مابین قانونی خدمات فراہم کرنے کا معاہدہ فروری 2018 سے 12 ماہ کے لیے 25 ہزار پاؤنڈز فی ماہ پر طے پایا تھا۔فروری 2018 سے جون 2018 تک کی ایک لاکھ 33 ہزار 450 پاؤنڈز کی رقم مارچ 2019 میں وفاقی کابینہ کی منظوری سے ادا کی گئی جبکہ جولائی تا اکتوبر 2018 کے ایک لاکھ پاونڈز بھی گزشتہ برس دسمبر میں ادا کردیے گئے تھے۔اس دوران لا فرم مسلسل مقدمات پر کام کرتی رہی اور فروری 2019 سے مزید 12 ماہ کے لیے کانٹریکٹ کی تجدید کا مطالبہ کیا۔

تاہم وزارت قانون اور اٹارنی جنرل پاکستان کے ذریعے پروکیورمنٹ کے قواعد کے تحت لا فرم کی خدمات حاصل کرنے کے آڈٹ اعتراض کے باعث معاہدے کی تجدید اور رقم کی ادائیگی زیر التوا ہے، اس طرح پہلے کی گئی ادائیگیاں بھی بے ضابطہ ہوگئیں۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ‘حساس معاملہ ہونے کی وجہ سے یہ عمل پی پی آر رول 42 (سی) کے تحت قومی سلامتی سے منسلک اداروں نے انجام دیا تھا اور برطانوی لا فرم میسرز گوئیرنیکا انٹرنیشنل کی اسناد دیکھنے کے بعد اسے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا جبکہ اٹارنی جنرل پاکستان کا دفتر اس ساری کارروائی سے منسلک تھا۔علاوہ ازیں وزارت قانون بھی ایک طرح سے اس عمل میں شامل تھی کہ وزرات نے الطاف حسین کے خلاف ان کیسز میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کے لیے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کے طور پر خواجہ امتیاز کی خدمات حاصل کی تھیں۔تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کھایا پیا کچھ نہیں اور گلاس توڑا بارہ آنے کے مصداق یہ الطاف حسین جیسا سفید ہاتھی ہماری جیبوں پر اور کتنا ہاتھ صاف کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button