العزیزیہ ریفرنس: نواز شریف کی سزا کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر کردی عدالت کا دو رکنی بنچ اپیل کی سماعت کرے گا، نوازشریف کی اپیل پر سماعت یکم ستمبر کو ہوگی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ یکم ستمبر کو درخواست پر سماعت کرے گا جس میں جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اخترکیانی شامل ہیں۔اسی بینچ نے 29 اکتوبر 2019 کو نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 8 ہفتوں کی ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ سنایا تھا، عدالت نے ضمانت میں توسیع کے لیے پنجاب حکومت سے رجوع کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔
اسی روز نواز شریف کی سزا بڑھانے سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) کی اپیل پر بھی سماعت ہوگی جس میں نواز شریف کی سزا 14 سال قید کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی یکم ستمبر کو ہی سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔
ویڈیو اسکینڈل آنے اور برطرفی سے پہلے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے العزیزیہ ا سٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو سزا سنائی تھی جب کہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کر دیا تھا۔نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج محمد ارشد ملک کو ویڈیو اسکینڈل کی انکوائری کے بعد عہدے سے برطرف کیا جا چکا ہے اور ان کا بیان حلفی بھی مرکزی اپیل کا حصہ ہے۔ خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 19 نومبر سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کا علاج اور طبی معائنہ جاری ہے۔
واضح رہے اس سے قبل اٹھارہ دسمبر 2019ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا کے خلاف سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی اپیل پر سماعت موسم سرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی تھی۔ عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کی تھی۔ عدالت نے اضافی دستاویزات جمع کرانے اور نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی متفرق درخواستیں منظور کی تھیں۔
