نوازشریف لندن میں نااہل حکومت کا علاج کر رہے ہیں

مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ نوازشریف لندن میں حکومت کا علاج کررہے ہیں، نوازشریف نے حکومت کو جو دوائی دی وہ ان سے ہضم نہیں ہورہی، حکومت اپوزیشن کی اے پی سی سے بوکھلا گئی ہے، کیونکہ 10 محرم کے بعد آل پارٹیز کانفرنس متوقع ہے۔آل پارٹیز کانفرنس کی جزوئیات تکمیل کے مراحل میں ہیں، ممکن ہے اے پی سی میں لاہور میں منعقد کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ نوازشریف اپنے علاج کے ساتھ حکومت کا بھی علاج کررہے ہیں ،نوازشریف کو یہ کیا بلائیں گے وہ جلد صحت یاب ہوکر خود واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف، شہبازشریف، مریم نواز اور حمزہ شہبازسمیت سب ایک پیج پر ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عثمان بزدار کے خلاف بظاہر تو کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ لیکن مستقبل میں عثمان بزدار کیسز کی بنیاد پر ضرور پکڑے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سمیت ترجمان میاںنواز شریف کی مصحت پر مسلسل ڈرامہ رچا رہے ہیں۔ عوام کو بیوقوف بنا کراین آراو، این آراو کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر نے کرپشن سے متعلق جھوٹ بولا۔ عدالت میں کہتے ہیں کہ کرپشن کے ثبوت نہیں۔ نوازشریف کے منصوبوں میں ایک دھیلے کی کرپشن بھی ثابت نہیں کرسکے۔ سلیکٹڈ وزیراعظم کے پاس این آراو دینے کا اختیار نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ اپوزیشن نہیں جوملک میں دھرنے دے۔ نواز شریف کو منی لانڈرنگ سے ڈراتے ہیں۔ کاغذ لہرانے سے منی لانڈرنگ ثابت نہیں ہوتی۔
رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی اے پی سی ہوئی نہیں اور شیخ رشید کی ٹانگیں ابھی سے کانپنے لگیں۔انھوں نے وزیر ریلوے شیخ رشید کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست کی فکر چھوڑ کر مظلوم خاندانوں کا سوچیں جن کے پیارے آپ کی نالائقی نااہلی کے سبب ٹرین کے سفر میں جاں بحق ہوگئے۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مریم نواز کی نیب میں پیشی شیخ رشید اور عمران خان کی سیاست پر ٹھوکرلگی، تھکی ہوئی حکومت نے ملک کے ہر شعبے کو تباہ کر دیا ہے، تھکے ہوئے لوٹوں سے عوام کو ریلیف کی کوئی اُمید نہیں ہے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نواز شریف کا نام لے کر اپنی تھکی ہوئی بوسیدہ سیاست کو زندہ رکھتا ہے، ہر روز سرکاری خرچے پر صرف ایک ہی کام ہے، نواز شریف، شہباز شریف مریم نواز اور حمزہ شہباز، ان کے اوسان پر شہباز شریف، مریم نواز اور اے پی سی سوار ہے۔رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ اے پی سی ابھی ہوئی نہیں لیکن شیخ رشید کی ٹانگیں ابھی سے کانپنے رہی ہیں، اسے پتہ ہونا چاہیئے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کے پاس این آر او دینے کا اختیار نہیں، وہ ساری عمر این آر او لے کر سیاسی گھر بدلتا رہا۔
