نواز شریف کی صحت پر سیاست اور بیان بازی زیادتی ہے

مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے نوازشریف کو مکمل تسلی کے بعد باہر بھیجا لہٰذا اب اس پر سیاست کرنا یا ڈیل کہنا زیادتی ہے۔
حکومتی وزراء کی طرف سے ڈیل کے تحت لیگی قائد کی بیرون ملک روانگی بارے احسن اقبال نے کہا کہ ’اگر نوازشریف ڈیل کے تحت باہر گئے تو پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ڈیل کیا تھی اور کس نے کی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’نوازشریف (ن) لیگ کی حکومت میں نہیں گئے،تمام ایجنسیز وزیراعظم کے تابع تھیں، شوکت خانم کے ڈاکٹرز ان کی نگرانی میں کام کررہے تھے، پنجاب میں ان کی اپنی حکومت ہے اور وزیر صحت ہی نوازشریف کے علاج کی نگرانی کررہی تھیں‘۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’ نواز شریف کسی ڈیل کے تحت گئے یا حکومت اعتراف کرے کہ ڈیل کی تھی، اگر ڈیل نہیں کی تھی تو حکومت سمجھتی ہے کہ اسے دھوکے میں رکھ کر چلے گئے تو کیا اس نے اپنی وزیر صحت کو برطرف کیا؟ شوکت خانم کے وہ ڈاکٹر جو نواز شریف کے علاج کی نگرانی کررہے تھے انہیں مشیر صحت لگایا گیا ہے، پہلے حکومت ان تمام لوگوں کو فارغ کرے جو نواز شریف کے علاج سے متعلق تھے اور ان کےباہر جانے کے لیے رپورٹس دیں اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو اس پر بلاوجہ سیاست کرنے سے باز رہے۔
لیگی رہنما نے مزید کہا کہ ’ایک بیمار شخص کی صحت کے حوالے سے دوبارہ سیاست کی جائے یہ اچھا نہیں، اس سے پہلے نوازشریف کی اہلیہ کی بیماری پر بھی اسی حکومت کے وزیر مشیر ایسے بیانات دیتے رہے جو بعد میں منہ چھپاتے پھر رہے تھے‘۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’نوازشریف باہر چلے گئے اور وزیراعظم کو اصل صورتحال پتا نہیں چلی، یہ کس قسم کے وزیراعظم اور چیف ایگزیکٹو ہیں؟ پاکستان ایک نیو کلیئر پاور ہے اور اس کا وزیراعظم باخبر ہوتا ہے لہٰذا بجائے اس کے،یہ مختلف اداروں اور قوتوں کو بدنام کریں، نوازشریف کے باہر جانےکی تمام ذمہ داری حکومت پر تھی‘۔
لیگی رہنما نے نے دعویٰ کیا کہ نوازشریف کو باہر بھیجنے سے پہلے ان کے معالج تک سے انٹیلی جینس اداروں کے ذریعے تفتیش کروا کر تسلی کی گئی تھی اور ڈاکٹرز کے بینک اکاؤنٹس بھی چیک کیے گئے تھے، ہر طرح سےتسلی کی گئی کہ معاملے میں کوئی گڑبڑ تو نہیں، اب اگر وہ علاج کے لیے گئے تو اسے ڈیل کہنا یا سیاست سے تعبیرکرنا زیادتی ہے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نواز شریف سیاسی طور پر متحرک نہیں ہیں، فضل الرحمان اور بلاول سے شہبازشریف رابطے میں ہیں، عاشورہ کے بعد حکومت کی غلط بیانی عوام کے سامنے آجائے گی۔
