القاعدہ سربراہ الظواہری زندہ نکلا، نئی ویڈیو آ گئی

امریکی حکام کی جانب سے القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کی موت بارے پچھلے برس کیا جانے والا دعویٰ غلط ثابت ہو گیا ہے۔
امریکا پر نائن الیون حملوں کی بیسویں برسی کے موقع پر ایمن الظواہری کا ایک نیا ویڈیو پیغام سامنے آ گیا ہے، جس میں مغربی ممالک اور ان کے اتحادیوں پر حملوں کی وکالت کی گئی ہے۔ ایمن الظواہری کی یہ نئی ویڈیو گیارہ ستمبر 2001ء کے ٹھیک بیس سال بعد گیارہ ستمبر 2021ء کو جاری کی گئی جو ایک گھنٹہ طویل ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو میں القاعدہ کے رہنما کو کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ القاعدہ کے حامیوں کو نہ صرف مغربی ممالک بلکہ مشرق وسطیٰ میں ان کے اتحادیوں کے خلاف بھی جنگ کرنا چاہیے۔ یہ ویڈیو گزشتہ برس کے اواخر میں تب سے اب تک کا ظواہری کا پہلا پیغام ہے، جب امریکی سیکیورٹی حکام نے دعوی کیا تھا کہ القاعدہ کے سربراہ کی موت ہو گئی ہے۔اب اس دعوے کی نفی ہو گئی ہے کہ ایمن الظواہری کا گزشتہ برس انتقال ہو گیا تھا۔ پروپیگنڈا ویڈیوز کا تجزیہ کرنے والے امریکا میں قائم سائٹ انٹیلیجنس گروپ کے مطابق ظواہری کی نئی ویڈیو کی جانچ پڑتال کے بعد کہنا مشکل ہے کہ یہ ویڈیو دراصل کب ریکارڈ کی گئی تھی۔سائٹ انٹیلیجنس گروپ کی انتہا پسندانہ ویڈیوز کی ماہر تجزیہ کار ریٹا کاٹس نے کہا کہ اس نئی ویڈیو میں ایمن الظواہری کی طرف سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے شمال مغرب میں روسی فوج کے ایک قافلے پر کیے گئے ایک ایسے حملے کا حوالہ دیا گیا ہے، جو یکم جنوری کو کیا گیا تھا جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ پچھلے برس ان کی ہلاکت کی خبر جھوٹی تھی۔
اپنی اسی ویڈیو میں القاعدہ رہنما کی طرف سے افغانستان میں 20 سالہ تعیناتی کے بعد وہاں سے امریکی فوجی انخلا کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے ظواہری کے الفاظ میں بیس سالہ جنگ کے بعد امریکا ٹوٹا ہوا ہے اور زخمی حالت میں افغانستان سے رخصت ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو کے افغانستان پارٹ میں ظواہری نے ہندو کش کی اس ریاست میں کابل کا کنٹرول حاصل کر لینے سے پہلے القاعدہ کے حلیف طالبان کی مسلسل عسکری پیش قدمی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ القاعدہ رہنما نے اس ویڈیو میں چند عرب ممالک کی طرف سے ماضی قریب میں اسرائیل کے ساتھ قائم کیے جانے والے باقاعدہ سفارتی اور تجارتی تعلقات پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ‘غداری‘ سے تعبیر کیا۔ متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش وہ مسلم اکثریتی خلیجی یا افریقی ممالک ہیں، جنہوں نے پچھلے سال اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ معاہدے کیے تھے اور جن کے اسرائیل کے ساتھ اب باضابطہ تعلقات ہیں۔
یاد رہے کہ مصر سے تعلق رکھنے والے ایمن الظواہری نے 2011ء میں القاعدہ کے بانی رہنما اسامہ کی ایبٹ آباد شہر میں ایک خفیہ امریکی فوجی پریشن کے دوران ہلاکت کے بعد اس دہشت گرد نیٹ ورک کی قیادت سنبھالی تھی۔امریکا نے ظواہری کی سر کی قیمت 25 ملین ڈالر مقرر کر رکھی ہے اور انسداد دہشت گردی کے امور کے کئی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایمن الظواہری ممکنہ طور پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقے میں کہیں روپوش ہیں۔
