الیکشن میں تاخیر کے حامی احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں؟

آئندہ چند ماہ عام انتخابات میں تاخیر کرکے ملک کو صحیح ٹریک پر لانا ناممکن ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ نگران حکومتیں پاکستان کی معیشت کو کھڑا کرسکتی ہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ ،دنیا نے پاکستان پر اس وقت تک اعتماد نہیں کرنا۔جب تک پانچ سال کے لئے منتخب حکومتیں مرکز اور صوبوں میں معرض وجود میں نہیں آتیں ،سیاسی استحکام لائے بغیر کوئی سرمایہ دار پاکستان میں اپنا سرمایہ نہیں لگانا چاہے گا اور ملک میں سیاسی استحکام جلد عام انتخابات کرائے بغیر ممکن نہیں. ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار حذیفہ رحمٰن نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ کرسی پر براجمان شخص ہمیشہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ شاید یہ کرسی اور اقتدار دائمی چیزیں ہیں۔ سب سے زیادہ عارضی چیز طاقت ہوتی ہے۔لیکن اقتدار کے منصب پر بیٹھے حکمران یہ بھول جاتے ہیں کہ اس اقتدار نے کبھی ختم بھی ہونا ہے۔قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہر آنے والے کو اردگرد کے لوگ یہی تاثر دیتے رہےہیں کہ’’اب اس نے نہیں جانا‘‘یا پھر’’جانے کی باتیں ،جانے دو‘‘لیکن کرسی اور عہدہ تو آتا ہی دراصل جانے کیلئے ہے۔آج پاکستان میں اچھی ساکھ کے حامل افراد اہم عہدوں پر تعینات ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان کی بات کریں تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک انتہائی سمجھدار اور قابل منصف ہیں۔اسی طرح سے مسلح افواج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی قابلیت اور دیانتداری قابل تعریف ہے۔جن حالات میں انہوں نے یہ ذمہ داری سنبھالی تھی ،اس وقت فوج بحیثیت ادارہ ایک آزمائش سے گزر رہی تھی۔لیکن ان کے غیر متزلزل ارادے اور خلوص نیت نے دوبارہ افواج پاکستان کی عوام میں ساکھ کو بہتر بنایا. حذیفہ رحمٰن کہتے ہیں کہ نگران وفاقی حکومت کی بات کریں تو اس میں اچھے اور قابل لوگ حکومت کا حصہ ہیں۔اسی طرح صوبوں میں بھی غیر متنازع لوگوں کو نگران حکومت کا حصہ بنایا گیا۔ان تمام افراد کی قابلیت قابل تعریف ہے۔لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب لوگ مل کر معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرسکتے ہیں۔کیا سرمایہ کار موجودہ حالات میں سرمایہ کاری کرنے پر رضامند ہونگے؟شاید ہم سب کا جواب نفی میں ہوگا۔اس کی سب سے بڑی وجہ ملک کا سیاسی عدم استحکام ہے۔سیاسی استحکام لائے بغیر کوئی سرمایہ دار پاکستان میں اپنا سرمایہ نہیں لگانا چاہے گا اور ملک میں سیاسی استحکام جلد عام انتخابات کرائے بغیر ممکن نہیں ؟ بلکہ مجھے یہاں تک علم ہے کہ وفاقی حکومت میں دو اہم وزارتوں پر ایک اہم صنعت کار وفاقی وزیر ہیں۔کوئی ان سے جا کرپوچھ لے کہ انہوں نے وزیر بننے کے بعد گزشتہ دو ماہ میں پاکستان میں کتنی سرمایہ کاری کی ہے یا انہوں نے اپنی ٹیکسٹائلز کے لئے کتنا خام مال و دیگر سامان امپورٹ کیا ہے۔شاید اس کی مقدار بہت تھوڑی ہوگی۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارپر ابھی صورتحال واضح نہیں ہوپارہی۔جب تک سرمایہ دار کا پورے نظام پر اعتمادبحال نہیں ہوگا،وہ کبھی اپنا سرمایہ واپس پاکستان لے کر نہیں آئے گا۔کیونکہ عمران دور کے چار سال میں اگر کوئی کام انتہائی دیانتداری اور تسلسل کے ساتھ کیا گیا تو وہ سرمایہ داروں کا ریاست پر سے اعتماد ختم کرنے کا تھا ۔آج کی صورتحال میں چاہے کوئی سرمایہ دار وزیر ہو یا پھر تحریک انصاف کا سپورٹر۔اسے سب سے زیادہ پیار اپنے سرمائے سے ہوتا ہے۔جب تک اسے یہ ذہنی و قلبی اطمینان حاصل نہیں ہوگا کہ جس ملک میں وہ سرمایہ لگارہا ہے،وہاں پر جمہوریت تسلسل سے چل رہی ہے اور آئین کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔تب تک وہ سرمایہ کاری کرنے سے گریز کرے گا۔ حذیفہ رحمٰن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کا حل فوری عام انتخابات میں چھپا ہوا ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ نگران حکومتیں پاکستان کی معیشت کو کھڑا کرسکتی ہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔نگران حکومتیں جتنی بھی محنت کرلیں ،دنیا نے پاکستان پر اعتماد نہیں کرنا۔جب تک پانچ سال کے لئے منتخب حکومت مرکز اور صوبوں میں معرض وجود میں نہیں آتی،تب تک معیشت درست ٹریک پر نہیں چل سکتی۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ ایک دیانتدار آدمی ہیں اور آئین و قانون پر چلتے ہیں۔اس وقت عام انتخابات کا فوری انعقاد ان کی ذمہ داری ہے۔اگر کوئی بھی فرد یہ سمجھتا ہے کہ آئندہ چند ماہ عام انتخابات میں تاخیر کرکے ملک کو صحیح ٹریک پر لایا جاسکتا ہے تو یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔آج اہم عہدوں پر براجمان شخصیات کے اردگرد رہنے والے افراد اگر انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ عام انتخابات میں چند ماہ کی تاخیر کرلی جائے تو یاد رکھیں ایسے لوگ ان کے مخلص نہیں ہیں۔اس وقت جلد از جلد عام انتخابات کا انعقاد ہی پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکال سکتا ہے۔اگر اس میں کسی بھی وجہ سے تاخیر کی گئی تو اس کے نتائج بہت خطرناک ہونگے۔ حذیفہ رحمٰن کہتے ہیں کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مسلح افواج نے جس طرح بارڈر پر ہونے والی اسمگلنگ پر قابو پایا ہے اور پورے ملک میں ڈالر مافیاکو لگام ڈالی گئی ہے۔اس کے بلاشبہ بہت اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔لیکن معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا یہ دائمی حل نہیں ہے. بلاشبہ آرمی چیف کی پالیسی سے ملک اور معیشت کا فائدہ ہوا ہے۔لیکن جب ایک منتخب حکومت اقتدار میں آکر اس پالیسی کو جاری رکھے گی اور موجودہ پالیسی کا تسلسل نظر آئے گا تو اس کے نتائج مزید بہتر ہوجائیں گے۔اس لئے ہمیں موجودہ سیٹ اپ کے اچھے کاموں کو سراہنا چاہئے اور آئندہ آنے والی حکومت کو بھی ان پالیسیوں کو برقرار رکھنا چاہئے ۔ ایک منتخب حکومت لانے میں تاخیر کرنا عقلمندی نہیں ہوگی۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس وقت مسلح افواج،سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سربراہ نیک نام اور قابل افراد ہیں۔سانحہ 9مئی جیسی سازش کے بعد وطن عزیز کو دوبارہ ٹریک پر لانا ایک کٹھن مرحلہ تھا۔مگر عسکری قیادت کی دانشمندی نے پاکستان کو کسی بھی بڑے نقصان سے بچایا ہے، اب ہم سب کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ عام انتخابات کے انعقاد کے بعد پانچ سال کے لئے ایک مضبوط حکومت وجود میں آئے او ر موجودہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرے اور غریب آدمی کو ریلیف دے۔

Back to top button