الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو دوہری شہریت پر طلب کر لیا

الیکشن کمیشن نے دوہری شہریت سے متعلق جعلی حلف نامہ جمع کرانے پروفاقی وزیر فیصل واوڈا کو 3 فروری کو طلب کر لیا ہے، الیکشن کمیشن میں تین فروری کو جعلی حلف نامہ جمع کرانے پر وفاقی وزیر کی نااہلی کیلئے جمع کرائی گئی درخواست کی سماعت کی جائے گی.
الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کی نا اہلی کیلئے دائر درخواست تین فروری کو سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے فیصل واوڈا سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دئیے ہیں۔
خیال رہے کہ وفاقی وزیرآبی وسائل فیصل واوڈا کی نااہلی کےلیے امن ترقی کےچیئرمین فائق شاہ کی جانب سے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی گئی ہے. فیصل واوڈا کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن میں دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیصل واوڈا نے 2018 کے انتخابات کے لیے اپنی شہریت کے حوالے سے کاغذات نامزدگی میں جعلی حلف نامہ جمع کروایا تھا تاہم اب وہ مسلسل اس حوالے سے جھوٹ بولتے ہوئے دباوٴ ڈالنے سمیت دیگر ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اعلی عدلیہ اس سے قبل دوہری شہریت رکھنے پر 2 سینیٹرز کو نا اہل قرار دے چکی ہے، فیصل وواڈا کو آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت نا اہل کیا جائے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل میڈیا میں خبر نشر ہوئی تھی کہ فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں اپنی امریکی شہریت کے حوالے سے غلط حلف نامہ جمع کرایا تھا۔ ابالیکشن کمیشن پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی نااہلی کی درخواست پر سماعت تین فروری کو کرے گا ، فیصل واوڈا پر کاغذات نامزدگی میں جعلی حلف نامہ جمع کرانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
خیال رہے آرٹیکل 62 پارلیمنٹ اراکین کی اہلیت سے متعلق ہے جس کی مختلف شقیں ہیں، جس پرہر رکن پارلیمنٹ کا پورا اترنا ضروری ہوتاہے، کوئی ایسا شخص پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہیں جو پاکستان کا شہری نہ ہو۔ رکن قومی اسمبلی کی عمر 25 سال ہونا ضروری ہے اور بطور ووٹر اس کے نام کا اندراج کسی بھی انتخابی فہرست میں موجود ہو جو پاکستان کے کسی حصے میں جنرل سیٹ یا غیر مسلم سیٹ کے لئے ہو۔ رکن سینیٹ کی صورت میں 30 سال عمر ہونا ضروری ہے اور ایسے شخص کا صوبے کے کسی بھی حصے میں بطور ووٹر نام درج ہونا ناگزیر ہے۔
آرٹیکل 62 ڈی کہتا ہے کہ ایسا شخص اچھے کردار کا حامل ہو اور اسلامی احکامات سے انحراف کے لئے مشہور نہ ہو اور اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو اور اسلام کے منشور کردہ فرائض کا پابند ہو، نیز کبیرہ گناہ سے اجتناب کرتا ہو۔
آرٹیکل 62 ون ایف کے مطابق پارلیمنٹ کا رکن بننے کا خواہش مند شخص سمجھدار ہو، پارسا ہو، ایماندار ہو اور کسی عدالت کا فیصلہ اس کے خلاف نہ ہو جبکہ اس نے پاکستان بننے کے بعد ملک کی سالمیت کے خلاف کوئی کام نہ کیا ہو اور نظریہ پاکستان کی مخالفت نہ کی ہو۔
