بزدار کی محکمہ خوراک میں مداخلت سے گندم کا بحران پیدا ہوا

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب میں گندم کے شدید بحران کے بنیادی طور پر ذمہ دار کپتان کے وسیم اکرم پلس وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار ہیں۔
گندم بحران کی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ سرکاری قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے محکمہ خوراک کے اختیارات میں مسلسل مداخلت کی اور گزشتہ سال گندم کی خریداری کے بعد کئی اضلاع میں سیاسی بنیادوں پر گریڈ 16اور 17 کے درجنوں ’’ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز‘‘ کے تبادلے اور تقرریاں کیں۔ ان افسران نے بعد ازاں مال بنانے اور بانٹنے کے لیے سرکاری ذخائر سے بلا روک ٹوک اور بے حساب گندم کے ذخائر جاری کیے جس کا نتیجہ موجودہ گندم بحران کی صورت میں سامنے آیا۔
وزیراعلی عثمان بزدار نے صرف جولائی اوراگست 2019 میں ہی 19 ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کے تبادلے اور تقرریاں کیں حالانکہ یہ اختیار سیکریٹری فوڈ کے پاس ہوتا ہے لیکن یہ تقرریاں وزیراعلیٰ پنجاب نے کیں۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کو پورے محکمہ گندم کے آپریشنز کا اہم ترین شخص سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ ضلع میں فوڈ ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ ہوتا ہے۔ بزدار کے جاری کردہ احکامات کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ نے گندم کی خریداری مکمل ہونے کے فوراً بعد ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے معاملات میں زبردست مداخلت کی۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ہونے والی پوسٹنگز کیلئے سیکریٹری فوڈ نے تحریری طور پر تصدیق کیلئے سمریاں بھیجیں۔ سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ نے ایسے احکامات کی تصدیق کی جو ان کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں آتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افسران نے بعد ازاں سرکاری ذخائر سے بے حساب گندم کے ذخائر جاری کیے جس سے آج ملک کو گندم کے بحران کا سامنا ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلی کے احکامات پرتبادلے اور تقرریاں اس لئے کی گئیں کیونکہ سیکریٹری فوڈ نسیم صادق نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ چنانچہ انہیں سیکریٹری فوڈ لگائے جانے کے دو ماہ بعد ہی تبدیل کر دیا گیا۔ لہذا یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ گندم کے بحران کی جڑیں بزدار کے دفتر میں ہیں جنہوں نے کرپٹ فوڈ افسران کو تعینات کر کے یہ موقع دیا کہ وہ گندم کی لوٹ مچائیں اور اسکا بحران پیدا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button