فردوس عاشق اعوان سے نا اہلی کیلئے دائر درخواست پرجواب طلب

معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان پر بھی نا اہلی کی تلوار لٹکنے لگی، الیکشن کمیشن نے مبینہ توہین عدالت پرفردوس عاشق اعوان کیخلاف دائر نااہلی کی درخواست پر2 مارچ تک جواب طلب کرلیاہے.
چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے معاون خصوصی کے خلاف خالد محمود کی طرف سے دائر نا اہلی کی درخواست کی سماعت کی.دوران سماعت معاون خصوصی کی جانب سے سید علی محمد بخاری پیش ہوئے. الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کیخلاف دائر نااہلی کی درخواست پر ان سے جواب طلب کر لیا ہے.
سماعت کے دوران فردوس عاشق اعوان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اپیل کنندہ توہین عدالت ثابت کرنے میں ناکام رہے اور درخواست بھی نامکمل ہے، ایک اخبار کی خبر پر توہین عدالت لگا کر نا اہل قرارنہیں کیادیا سکتا، یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے. دوسری طرف درخواست گزار خالد محمود نے کہا کہ تقریر کا ٹرانسکرپٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرا چکے ہیں اور پیمرا کو بھی اس میں پارٹی بنایا گیا ہے الیکشن کمیشن نے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2مارچ تک ملتوی کر دی ہے.
یاد رہے کہ مبینہ توہین عدالت کی بنیاد پر الیکشن کمیشن میں فردوس عاشق اعوان کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے جس میں پیمرا کو بھی فریق بنایا گیا ہے. درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت ممنوعہ اورغیر ملکی فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن پر دباﺅ ڈال رہی ہے، معاون خصوصی اطلاعات کی پریس کانفرنس الیکشن کمیشن کو دھمکانے کے مترادف ہے، فردوس عاشق اعوان نے الیکشن کمیشن کے خلاف توہین آمیز اور نازیبا زبان استعمال کی.درخواست میں مزید کہا گیا کہ فردوس عاشق اعوان نے عدالت کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی ،فردوس عاشق اعوان نے الیکشن کمیشن کے حوالے سے کہا دال میں کچھ کالا ہے، فردوس عاشق اعوان کو طلب کر کے انکے بیان کی وضاحت لی جائے،فردوس عاشق اعوان نے معزز کمیشن کو بدنام کرنے کی کوشش کی ،فردوس عاشق اعوان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button