15 ماہ کے حاصل کردہ قرضوں کی تفصیلات جاری کردی گئیں

وزارت خزانہ نےگزشتہ 15 ماہ (جولائی2018ء سے ستمبر 2019ء) میں مجموعی قرضوں کے حجم میں ہونے والے 11.61 ٹریلین روپے اضافے کی تفصیلات جاری کر دیں۔4.11 ٹریلین روپے قرض(کل اضافے کا35 فیصد) مالی خسارہ پورا کرنے کےلیے حاصل کیا گیا۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ 3.54 ٹریلین روپے قرض (31 فیصد) روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بڑھا جو پچھلی حکومت کی غلط شرح مبادلہ اور ناقص صنعتی و تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے ہوا جس سے ناقابل برداشت حد تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پیدا ہوگیا جس کی بنا پر کرنسی کی شرح تبادلہ میں فوری کمی لانا پڑی۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ 3.13 ٹریلین روپے قرض(27 فیصد) حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے مستقبل میں قرض نہ لینے کے فیصلہ کے بعد کیش بیلنس کی سطح بڑھانے سے ہوا، اسٹیٹ بینک کے پاس قرض کی تلافی یا خلا پر کرنے کےلیے لیکوئیڈ اثاثہ جات دستیاب ہیں۔
وزارت خزانہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 0.47 ٹریلین روپے قرض (4 فیصد) کا اضافہ سرکاری اداروں کی جانب سے ان کی مالی ضروریات پورا کرنے کے لیے حاصل کردہ قرضے کی وجہ سے ہوا ہے۔ 0.08 ٹریلین روپے قرض (منفی ایک فیصد) کموڈٹی آپریشن کی مد میں قرض کی واپسی کےلیے لیا گیا جو کہ ایک خوش آئند امر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button