امارات میں ہزاروں پاکستانیوں کو شناختی کارڈ کی فراہمی کیوں رُکی؟

کورونا وائرس کے باعث کوریئر سروس متاثر ہونے سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں کو شناختی کارڈ (نائیکوپ) موصول نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔
ابوظبی میں پاکستانی سفارت خانے نے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کو مطلع کیا ہے کہ ‘کورونا وبا کے پیش نظر پروازوں کی غیر یقینی صورت حال کے باعث بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے شناختی کارڈ (نائیکوپ) کی ترسیل عارضی طور پر تعطل کا شکار ہے۔
پاکستانی سفارت خانے کی دستاویز کے مطابق ’کورونا وبا کے پیش نظر پروازوں کی غیر یقینی صورت حال اور نادرا کے لیے کوریئر کمپنی کی جانب سے سروس کی عارضی معطلی کی وجہ سے نائیکوپ کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔‘ابوظبی میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ’22 دسمبر 2020 اور اس کے بعد جن افراد نے نائیکوپ کے لیے درخواستیں دی ہیں وہ اگلی اطلاع تک سفارت خانے تشریف نہ لائیں۔‘
نادرا کے ترجمان فائق علی نے اس حوالے سےمیڈیا کو بتایا کہ ’نجی کوریئر کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم ہونے کے باعث بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو شناختی کارڈ کی ترسیل میں تاخیر ضرور ہوئی ہے لیکن ہم نے متبادل ذرائع سے نائیکوپ کی ترسیل کا کام شروع کر دیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ‘نجی کوریئر کمپنی کے ساتھ نادرا کے معاہدے کی مدت ختم ہوچکی تھی اور اس سلسلے میں نادرا نے نیا ٹینڈر بھی جاری کیا ہے لیکن کورونا کے باعث کوریئر سروس کمپنی شدید متاثر ہوئی ہے جس وجہ سے معاملات تاخیر کا شکار ہیں۔’
ترجمان نادرا کے مطابق ’ہم متبادل ذرائع سے نائیکوپ بھیج رہے ہیں اور آدھی ترسیل ہو گئی ہے، باقی دو سے تین روز میں مکمل ہو جائے گی۔‘ نائیکوپ کی ترسیل میں تاخیر کے باعث امارات میں موجود پاکستانیوں کو اقامہ میں تجدید اور دیگر مسائل کا سامنا ہے۔ نادرا حکام کے مطابق ’نائیکوپ کے لیے روزانہ کی بنیاد پر درخواستیں موصول ہوتی ہیں اور تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد ترسیل کا عمل شروع کیا جاتا ہے اور روزانہ کی ہی بنیاد پر ترسیل کی جاتی ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں نادرا کے ترجمان فائق علی نے کہا کہ ’نجی کوریئر کمپنی کے ساتھ معاہدے کی میعاد ختم ہونے کا علم تھا اور نادرا نے بروقت ٹینڈر بھی جاری کر دیا تھا لیکن کچھ تکنیکی وجوہات کے باعث دوبارہ سے ٹینڈر جاری کرنا پڑا۔’
‘تاہم اس دوران متبادل ذرائع سے نادرا نے سفارت خانے کو نائیکوپ کی ترسیل کا آغاز کر دیا ہے اور دو سے تین روز میں صورت حال معمول پر آجائے گی۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button