امریکہ : اسقاط حمل کیخلاف سپریم کورٹ کےفیصلے پر احتجاج شدت اختیار کر گیا

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اسقاط حمل پر امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر احتجاج شدت اختیار کر گیا،جس میں مظاہرین اور پولیس کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے باعث متعدد افراد کو حراست میں لےلیا گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف امریکہ کے کئی شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور نصف صدی پرانے”رو بنام ویڈ” کیس پر ججوں کے فیصلے کی مذمت کی گئی۔ اس کیس کے گذشتہ فیصلے میں خواتین کے اسقاط حمل کے آئینی حق کو تسلیم کیا گیا تھا تاہم اب سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کو کالعدم قرار دیا ہے، کچھ مقامات پر پولیس اورمظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، سکیورٹی فورسز نے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل سپریم کورٹ نے امریکی خواتین کو حمل ضائع کرنے کا دیا گیا اختیار ختم کردیا تھا،یہ فیصلہ 3 کے مقابلہ 6 ججوں کی اکثریت سے ریاست کے حق میں سنایا گیا تھا ،فیصلے میں کہا گیاتھا کے آئین میں خواتین کو اسقاط حمل کا حق نہیں دیا گیا، اس حوالے سے اختیارکو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو دیا جاتا ہے۔ مذکورہ فیصلہ ڈوبس بنام جیکسن ویمنز ہیلتھ آرگنائزیشن کیس میں سنایا گیا جس میں 15ہفتے گزرنے ے بعد اسقاط حمل پر پابندی کو چیلنج کیا گیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیاتھا کہ آئین میں خواتین کو اسقاط حمل کا حق نہیں دیا گیا، اس حوالے سے اختیارکو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو دیا جاتا ہے۔ مذکورہ فیصلہ ڈوبس بنام جیکسن ویمنز ہیلتھ آرگنائزیشن کیس میں سنایا گیا جس میں 15ہفتے گزرنے ے بعد اسقاط حمل پر پابندی کو چیلنج کیا گیا تھا، فیصلے کے بعد مختلف امریکی ریاستوں می عوامی رائے اور منتخب نمائندوں کی رائے کے مطابق اس حوالےقانون سازی کی جائے گی۔ عدالتی فیصلے کے متعلق لیک رپورٹس میں متوقع فیصلے کا تذکرہ کیا جاچکا ہے۔

Back to top button