کیا میرا ڈونا کو اس کے ڈاکٹر دوست نے قتل کیا ؟


فٹ بال کی دنیا کے خدا کہلائے جانے والے ڈیاگو میرا ڈونا کی موت کے ڈیڑھ سال بعد ان کے تین معالجین سمیت طبی عملے کے آٹھ افراد پرلیجنڈری فٹ بالر کو قتل کرنے کا الزام عائد کر دیا گیا ہے ۔ ساٹھ سالہ میرا ڈونا کی موت پچیس نومبر 2020 کو اپنے گھر میں بظاہر دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی ، طبی پینل کی جانب سے عظیم فٹ بالر کے علاج میں نقائص سے بھرپور رپورٹ سامنے آنے کے بعد عدالت نے ان کی طبی ٹیم کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

موت سے قبل میرا ڈونا کے دماغ میں جمے ہوئے خون کے لوتھڑے (بلڈ کلاٹ) کو نکالنے کیلئے ایک کامیاب سرجری کی گئی تھی اور وہ گھر جا چکے تھے جہاں ان کا مزید علاج کیا جا رہا تھا۔

میراڈونا کی موت کے چند دن بعد ہی ارجنٹائن کی حکومت نے گھر پراُن کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز اور نرسز کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا، 20 ماہرین پر مشتمل ایک پینل نے بتایا کہ میراڈونا کا علاج کرنے والی طبی ٹیم غیر مناسب، نقائص سے بھرپور اور لاپرواہی سے کام کرنے کی مرتکب ہوئی ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق اس پینل کی تفتیش نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ اگرمیراڈونا کا علاج کسی ایسے ہسپتال میں ہوتا جہاں مناسب طبی سہولیات میسر ہوتیں تو ان کے بچنے اور زندہ رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے۔

لاپرواہی کے الزامات کا سامنا کرنے والوں میں میراڈونا کے نیوروسرجن اور ذاتی معالج لیوپولڈو لوکے، ایک ماہر نفسیات، دو ڈاکٹرز اور دو نرسیں شامل ہیں، ان تمام افراد نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے ،اگر مقدمے میں جرم ثابت ہو جاتا ہے تو ملزمان کو 25 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، ابھی تک مقدمے کے آغاز کی تاریخ نہیں دی گئی، میراڈونا کے وکیل ماریو باڈری نے بتایا کہ عظیم فٹبال کھلاڑی ’موت سے پہلے بے بسی کا شکار تھے، جیسے ہی رپورٹ دیکھی تو یہ صاف بتا رہی تھی کہ لیجنڈ فٹ بالر کو قتل کیا گیا، اس معاملے پر قانونی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب میراڈونا کی دو بیٹیوں نے باقاعدہ شکایت درج کروائی۔

ڈیاگو میراڈونا کا شمارفٹ بال کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں کیا جاتا ہے، 1986 میں ان کی قیادت میں ارجنٹائن فٹ بال ورلڈ کپ کا فاتح بنا جس کے دوران کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کے خلاف ان کا وہ گول بھی دنیا بھر میں مشہور ہے جسے ’ہینڈ آف گاڈ‘ (خدا کا ہاتھ) کا نام دیا گیا۔

میراڈونا نے 1990 میں اٹلی میں ہونے والے ورلڈ کپ کے فائنل میں بھی ارجنٹائن کی قیادت کی تھی لیکن اسے مغربی جرمنی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، ڈرگ ٹیسٹ مثبت پائے جانے کے بعد 1994 میں میراڈونا کو یو ایس ورلڈ کپ سے واپس بھیج دیا گیا، 1997 میں اپنی 37 ویں سالگرہ کے موقع پر میراڈونا نے پیشہ ورانہ فٹ بال سے ریٹائرمنٹ لے لی، میراڈونا کو 2008 میں ارجنٹائن کی قومی فٹ بال ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا تھا۔

2010 کے ورلڈ کپ میں، کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن جرمنی سے ہار گیا تھا۔ اس کے بعد میراڈونا نے متحدہ عرب امارات اور میکسیکو میں فٹ بال ٹیم کے لیے کام کیا۔ میراڈونا کی موت کی خبر نے فٹ بال کی دنیا اور ان کے ملک ارجنٹائن کو گہرا صدمہ پہنچایا تھا اور ہزاروں افراد گھنٹوں پیدل چل کر بیونس آئرس میں صدارتی محل میں ان کا آخری دیدار کرنے پہنچے تھے۔

میراڈونا کا کوئی جنونی فین بھی اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ برسوں کی نشے کی عادت نے ان کے جسم کو کتنا نقصان پہنچایا یا پھر دماغ کی سرجری کے ان پر کتنے شدید اثرات مرتب ہوئے لیکن صرف 60 سال کی عمر میں میراڈونا کی موت کے بعد ارجنٹائن میں یہ تاثر تھا کہ دنیا کا عظیم ترین فٹ بال کھلاڑی وقت سے پہلے چلا گیا، جیسے جیسے ان کے علاج کی تفصیلات سامنے آتی گئیں، جواب فراہم کرنے کے مطالبے بڑھتے گئے، طبی ماہرین کے پینل کی تفتیش کے نتائج خاص کر بہت چشم کشا تھے۔

یاد رہے کہ میرا ڈونا کی موت پر قانونی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب میراڈونا کی دو بیٹیوں نے باقاعدہ شکایت درج کروائی۔ انھوں نے اپنے والد کے دماغ کے آپریشن کے بعد ان کے علاج پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔ڈاکٹر لوکے، جو میراڈونا کے ذاتی معالج تھے، نے نومبر 2020 میں ایک جذباتی پریس کانفرنس کی جس کے دوران انھوں نے روتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے ’اپنے دوست کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔‘

Back to top button