مختاراں مائی کی عزت پنچایتی فیصلے کی بھینٹ کیسے چڑھی؟


20 برس قبل ایک پاکستانی پنچایت کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے تب بے نقاب ہوا جب ایک بے قصور لڑکی کو اس کے بھائی کے گناہ کی سزا دی گئی، گائوں کی پنچایت نے حریف قبیلے کی لڑکی سے تعلقات قائم کرنے کی پاداش میں ایک نوجوان کی بہن سے اجتماعی زیادتی کا حکم دے دیا۔ اس ظلم کا شکار ہونے والی مختاراں مائی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ اس واقعے کے اثرات آج بھی سامنے آ رہے ہیں، یاد رہے کہ ریپ کا یہ واقعہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، یہ کسی ایک فرد پر نہیں بلکہ 80 سے 90 افراد پر مشتمل پنچایت کا فیصلہ تھا۔

ریپ ہونے والی مختاراں مائی نے اس واقعے کے بعد عورتوں کے ساتھ ہونے والے اس طرح کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ مزاحمت کی علامت بن گئی۔ مختاراں مائی اس واقعے کے بعد ایک سماجی کارکن کے روپ میں سامنے آئی، اور پاکستان میں ریپ کے مسئلے سے آگاہی، ریپ متاثرین کی بحالی اور خواتین کی تعلیم کیلئے بھرپور مہم چلائی۔ تب سے اب تک کے 20 سالوں میں پاکستان میں ریپ کے معاملے میں آگاہی کئی گنا بڑھی ہے اور خواتین نے آواز اٹھانا شروع کر دی ہے۔

انڈیپنڈنٹ اردو سے ایک انٹرویو میں مختاراں مائی نے بتایا کہ پرویز مشرف نے ان سے دو سال قبل رابطہ کیا اور سوال کیا کہ ’کیا میں اس لیے بیمار ہوا ہوں کہ میں نے تمہارے حوالے سے کچھ غلط بات کر دی تھی؟ یاد رہے کہ بطور فوجی حکمران مشرف نے ایک انٹرویو میں یہ بیان دے ڈالا تھا کہ مختاراں مائی جیسی عورتیں دوسرے ملکوں کی نیشنلٹی لینے کے لئے جان بوجھ کر اپنا ریپ کرواتی ہیں۔ مختاراں نے کہا کہ اب وہ مشرف خود کس ملک میں ہے؟ ہم جیسے لوگوں کا ٹھکانہ اب بھی پاکستان ہے، کیونکہ یہ ہمارا ملک ہے اور ہماری شان ہے۔

مختاراں مائی کا کہنا تھا کہ انہیں آج بھی دھمکیاں مل رہی ہیں، ایک دن ایک واٹس ایپ گروپ میں آڈیو شئیر کی گئی، ان کے شوہر بھی اس واٹس ایپ گروپ کا حصہ ہیں، آدھے گھنٹے کی اس آڈیو میں ان سے اجتماعی زیادتی میں ملوث ایک ملزم فیض مستوئی کے رشتہ دار یہ منصوبہ بناتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ وہ ’مختاراں کو دوبارہ برہنہ کریں گے، انہوں نے کہا کہ جب میں نے پولیس کو شکایت کی تو اس نے یہ کہہ کر کارروائی سے انکار کر دیا کہ یہ ہمارا کیس نہیں بنتا۔

یاد رہے کہ پاکستانی وزارت انسانی حقوق کے مطابق 2018 سے دسمبر 2021 تک ملک میں 14 ہزار سے زائد ریپ کیسز رپورٹ کیے گئے۔

مختاراں مائی نے بتایا کہ ریپ کے بعد انہوں نے 18 سال تک بچوں کے سکول چلائے اور وہ اب تک تین سکول بنا کر حکومت کو عطیہ کر چکی ہیں، وہ اب دوبارہ ایک سکول بنانے کا سوچ رہی ہیں، مختاراں مائی ایک سماجی کارکن کے طور پر بھی کام کر رہی ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تب لوگوں کی عزت کہاں جاتی ہے جب ہمارے ملک میں خواتین کو کاروکاری کیا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پچھلے 20 سالوں میں خواتین اب بولنا اور آواز اٹھانا شروع ہو گئی ہیں، اب پہلے سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، لوگ اب اپنا حق مانگنا شروع ہو گئے ہیں، جو والدین پہلے بچوں کو نہیں پڑھانا چاہتے تھے وہ اب انہیں پڑھانا چاہتے ہیں۔ مختاراں نے کہا ہے کہ اگر انسان مشن بنا لے کہ اس نے اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسل کے لیے لڑنا اور اسے مضبوط بنانا ہے تو پھر اسے دیگر لوگوں کا سہارا بھی مل جاتا ہے، اور اسی سوچ سے انسان زندہ رہ سکتا ہے ورنہ نہیں۔

اپنے خاندان کے بارے میں بات کرتے ہوئے مختاراں نے بتایا کہ ان کے تین بچے ہیں، بڑی بیٹی دسویں جماعت، دوسری ساتویں جبکہ بیٹا پانچویں جماعت میں زیر تعلیم ہے، بیرون ملک شفٹ نہ ہونے کے فیصلے پر مختاراں کہتی ہیں میرا مقصد یہاں پر رہ کر کام کرنا تھا، میں یہاں کام نہ کرتی تو میرا گائوں ’’میر والا‘‘ کیسے پہچانا جاتا؟

Back to top button