امریکہ بھر میں سیاہ فام شہری کے قتل پر احتجاجی مظاہرے جاری

پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری فارج فلائیڈ کی موت کے بعد امریکا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور ہفتے کو بھی امریکا بھر میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر مارچ کیا۔
یہ احتجاج نیویارک سے لاس اینجلس تک کیے گئے لیکن ان کا مرکز واشنگٹن تھا جہاں رنگ و نسل اور زبان کے فرق سے بالاتر ہو کر ہزاروں افراد نے وائٹ ہاؤس کی اطراف کی گلیوں میں احتجاج کیا اور جنہیں روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنی پڑیں۔واشنگٹن کی رہائشی کرسٹین مونٹ گومری نے کہا کہ یہ لڑائی کئی دہائیوں، سینکڑوں سالوں سے جاری ہے اور اب تبدیلی کا وقت ہے۔اپنے 10سالہ بیٹے کے ساتھ مظاہرے میں شریک اس خاتون نے کہا کہ میں یہاں اس لیے آئی ہوں تاکہ میرا بیٹا دنیا بھر میں ہیش ٹیگ کی صورت میں ٹرینڈ نہ کر رہا ہو۔انتہائی گرمی کے باوجود بھی لوگ ماسک پہنے احتجاج میں شریک تھے جنہیں رضاکار پانی، ہینڈ سینی ٹائزر اور دیگر اشیا پیش کر رہے تھے۔
عوام کی نگرانی اور مشتعل ہجوم کو تباہی سے روکنے کے لیے ہیل کاپٹر مستقل فضائی نگرانی کر رہا تھا البتہ مظاہرین کو روکنے کے لیے تعینات پولیس اور فوج کے دستوں کی تعداد گزشتہ دنوں کی نسبت کم تھی۔
واضح رہے کہ ان احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ اس وقت شروع تھا جب ایک پولیس افسر کی ویڈیو وائرل ہوئی جسے ایک سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی گردن پر گھٹنہ رکھے دیکھا جا سکتا تھا۔سفید فام پولیس افسر سے جارج زندگی کی بھیک مانگتے رہے لیکن وہ پولیس افسر 9منٹ تک اس کی گردن پر پیر رکھ کر بیٹھا رہا جس سے بالآخر اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔یہ ویڈیو چند گھنٹوں میں ہی دنیا بھر میں وائرل ہو گئی تھی جس کے بعد امریکا بھر میں مظاہرے، پرتشدد واقعات اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔جارج کے قتل میں ملوث سفید فام پولیس اہلکار ڈیرک شوون پر دوسرے درجے کے قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔
فلائیڈ کی موت کے بعد مینیا پولیس میں ہونے والے پرتشدد واقعات اور احتجاج کی گزشتہ 50سال میں کوئی مثال نہیں ملتی جہاں آخری مرتبہ اس طرح کے حالات 1968 میں مارٹن لودھر کنگ جونیئر کے قتل کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ہفتے کو ملک کے دیگر شہروں یمں پرامن احتجاج کیا گیا، نیویارک اور فلی ڈیلفیا میں ہزاروں افراد نے ریلیاں نکالیں جبکہ شکاگو میں احتجاج کرنے والوں کو سہولت کی فراہمی کے لیے شہر کی نہر کو بند کردیا گیا تھا اور لاس اینجلس میں پرامن احتجاج کیا گیا۔
جارج فلائیڈ شمالی کیرولینا میں پیدا ہوئےتھے اور جمعرات کو منی پولیس میں تقریب کے بعد ان کی یاد میں ہفتے کو کیرولینا میں تقریب منعقد کی گئی۔ہزاروں لوگ ان کے تابوت کو دیکھنے کے لیے موجود تھے جبکہ اس موقع پر فلائیڈ کی دونوں بہنیں بھی موجود تھیں۔صرف ہی بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ہزاروں مظاہرین نے امریکیوں کے ہم آواز ہو کر نسل پرستی کے خلاف آواز بلند کی۔لندن میں پارلیمنٹ بلڈنگ کے باہر ہزاروں افراد کے ہجوم نے جارج فلائیڈ کے اہلخانہ اور امریکی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ آسٹریلیا اور فرانس میں بھی ہزاروں افراد ریلیوں کی شکل میں باہر نکلے جبکہ تیونس میں بھی سینکڑوں مظاہرین انصاف کی فراہمی کے لیے آواز بلند کرتے نظر آئے۔
ادھر امریکا میں احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے مظاہرین سے کی جانے والی مزید زیادتیاں بھی منظر عام پر آئیں جہاں کیمرے نے پولیس تشدد کے واقعات کو قید کر لیا۔بوفیلو میں پولیس کو ایک 75سالہ شخص کو دھکا دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس سے زمین پر گر گیا اور اس کے خون بہنے لگا اور اس ویڈیو کو بھی سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شیئر کیا گیا جس سے لوگوں کے غم و غصے میں مزید اضافہ ہو گیا۔البتہ اس کے ساتھ ساتھ چند مقامات پر پولیس کے قوانین میں چند تدیلیاں بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔سیٹل میں مظاہرین پر آنسو گیس پر عبوری طور پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ ڈینور میں فیڈرل جج نے پولیس کی جانب سے ربڑ کی گولیوں کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے اور ڈیلس میں پولیس نے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج میں شرکت کی۔
دوسری جانب واشنگٹن میں مظاہرین نے احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس جانے والی گلیوں میں پیلے رنگ سے بڑے بڑے حروف سے ‘بلیک لائیوز میٹر'(سیاہ فاموں کی زندگی اہمیت رکھتی ہے) لکھ کر سڑک کو رنگ دیا۔ہفتے کو احتجاج سے قبل شہر کے ورکرز اور مقامی فنکاروں نے رات 2بجے تک کام کر کے اس کام کو مکمل کیا۔شہر کے میئر میوریل براؤزر نے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ واشنگٹن کے عوام کی اسٹریٹ ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نہیں۔انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے، لوگوں میں بہت غصہ ہے، لوگوں کے پولیس اور حکومت پر بھروسے میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔
