امریکہ سے طلاق کے بعد پاکستان کو نئے سہاروں کی تلاش

بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں تناؤ جبکہ امریکہ اور مغربی ملکوں کی جانب سے اہمیت نہ ملنے پر پاکستان وسطی ایشیائی ملکوں کے ساتھ روابط بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے جسے ‘ویژن وسطی ایشیا’ پالیسی کا نام دیا گیا ہے۔اس پالیسی کے تحت اسلام آباد وسطی ایشیا کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں روابط مضبوط بنانے کے لیے پُر عزم ہے۔ اسی لئے پاکستان اور وسط ایشیائی ملکوں کے درمیان حالیہ عرصے میں قربتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین پاکستان کے وسطی ایشیائی ممالک سے روابط میں اضافے کو ملک کی خارجہ پالیسی کو متنوع بنانے اور خطے میں ‘سفارتی تنہائی’ دور کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔
سابق سفارت کار اور پاکستان کے دفتر خارجہ میں وسطی ایشیا، ترکیہ اور ایران کے سابق ڈائریکٹر جنرل نجم الثاقب کہتے ہیں کہ اسلام آباد کو یہ خیال دیر سے آیا ہے کہ وسطی ایشیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہئیں جس کی ایک وجہ پاکستان کی توانائی ضروریات اور معاشی مشکلات بھی ہیں۔ وسطی ایشیا کبھی بھی پاکستان کیلئے غیر اہم نہیں تھا۔ لیکن حالیہ عرصے میں اس خطے کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ان کے بقول پاکستان کی سفارت کاری کا پہلا محور اب معاشی اہداف کا حصول ہے اور اسی بنا پر وسطی ایشیا اسلام آباد کے سفارتی نقشے پر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ایسے وقت میں جب امریکہ اور مغربی ممالک افغانستان سے انخلا کے بعد پاکستان کو تنہا چھوڑ گئے ہیں۔ اسلام آباد کے لیے بھارت اور افغانستان کے تناظر میں وسطی ایشیا بہت اہم ہو جاتا ہے۔اُن کے بقول خطے میں چین پاکستان کا ایک اہم اتحادی ہے۔ لیکن اسلام آباد نہیں چاہتا کہ وہ صرف بیجنگ پر انحصار کرے۔ لہذٰا نئے مواقع کے طور پر وسطی ایشیا سے تعلقات بڑھا رہا ہے۔
پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار 3.5فیصد رہنے کاامکان
اسلام آباد کے تھنک ٹینک ‘صنوبر انسٹی ٹیوٹ’ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر قمر چیمہ کہتے ہیں کہ یورپی منڈی تک زمینی راستے کا حصول پاکستان کی پرانی خواہش ہے جبکہ توانائی کی حالیہ شدید قلت اور افغانستان کی صورتِ حال نے وسطی ایشیا کو اسلام آباد کے لیے مزید اہم بنا دیا ہے۔قمر چیمہ کے بقول چین اور روس کے بھی وسطی ایشیا میں مفادات ہیں اور وہ اس خطے کے ممالک کو شامل کر کے شنگھائی تعاون آرگنائزیشن (ایس سی او) اور بھارت، چین، برازیل، جنوبی افریقہ اور روس پر مشتمل پانچ ملکوں کی تنظیم ‘برکس’ کو توسیع دینا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر قمر چیمہ کے بقول بھارت جنوبی ایشیائی ممالک پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے بعد آسیان ممالک کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے اور پاکستان کے پاس اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے خطے میں وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
قمر چیمہ کے بقول ایسے میں جب مغرب پاکستان کو اہمیت نہیں دے رہا اور انسانی حقوق اور جمہوریت پر سوال اٹھاتا ہے تو اسلام آباد بھی ان سے فاصلہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسلام آباد میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی میں تنوع لانا چاہیے اور اس مقصد کے لیے وسطی ایشیا سے تعلقات استوار اور مشرقِ وسطیٰ کے اپنے اتحادی ممالک سے تعلقات بحال کرنے چاہئیں۔
