امریکہ کو پاکستان میں دہشتگرد حکومت کے قیام کا خطرہ


معروف امریکی تھنک ٹینک بروکنگز نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے پاکستانی طالبان کے حوصلے بھی بلند ہوگئے ہیں جس نے پاکستان میں ایک ’دہشت گرد حکومت‘ کے قیام کا امکان بڑھا دیا ہے۔ ایسی صورتحال سے پاکستان کے جوہری ہتھیار بھی خطرے کا شکار ہو سکتے ہیں اور اس خطرے کو کوئی امریکی صدر نہیں جھٹلا سکتا۔ لیکن امریکی تھنک ٹینک نے اس امید کا اظہار کیا یے کہ پاکستان طالبان کی جانب سے اقتدار پر قابض ہونے اور اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو قابو کرنے کی ‘جہادی’ کوشش کو پسپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی تھنک ٹینک بروکنگز کی رپورٹ کا عنوان ’پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا اذیت ناک مسئلہ رکھا گیا یے، جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی فتح نے پاکستان میں عسکریت پسندوں کو حوصلہ دیا ہے جس سے ملک میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس خوف میں اب یہ امکان بھی شامل ہو چکا ہے کہ پاکستان میں ’جہادی‘ اسلام آباد پر قبضہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ لیکن امریکی تھنک ٹینک کے خیال میں ایسی کوشش کامیاب ہونے کے امکانات بہت کم ہوں گے بشرطیکہ کوئی انہونی نہ ہو جائے۔ بروکنگز کی رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان آرمی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو وہ بطور ایک پیشہ ورانہ فوج یقینی طور پر جہادیوں کے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دے گی اور ایسا وقت آنے کی صورت میں شاید کامیاب بھی ہو جائے گی۔

لیکن امریکی تھنک ٹینک کہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہےکہ ایسی کوشش ہوسکتی ہے، جو حکومت پاکستان اور انتہا پسند گروہوں کے درمیان جنگ کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہوسکتی ہے‘۔ اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ایسی کوئی شورش پاکستان کو ایک مرتبہ پھر سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دے گی۔ تاہم دودتی جانب خیال رہے کہ پاکستانی ریاست نے طالبان کے خلاف لڑنے کی بجائے ان کے ساتھ امن مذاکرات کا عمل شروع کر دیا ہے اور اس کا انکشاف وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں کیا ہے۔

امریکی رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ متعدد مرتبہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام اور خطے کے دوران ایٹمی تنازع کے چھڑنے کے خطرات سے آگاہ کرچکا ہے۔ تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کشمیر کے تنازع کا ذکر نہیں ہے لیکن یہ کہا گیا کہ ’جب پاکستان مسائل سے دوچار ہوتا ہےتو بھارت میں بھی اس کا اثر پیدا ہوتا ہے‘۔ افغانستان میں طالبان کے کنٹرول سے متعلق رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پیشرفت نے پاکستان میں ’دہشت گرد حکومت‘ کے قیام کے امکان کو بڑھا دیا ہے اور اس خوف کو بطور ایک سٹریٹیجک چیلنج کوئی امریکی صدر نظر انداز نہیں کر سکتا تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے سیاسی اور عسکری رہنماؤں نے امریکا کو دہانی کرائی ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ملک عسکریت پسندوں سے لڑنے کے لیے وہ بہت مضبوط ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیاکہ پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ملک میں سرگرم مختلف دہشت گرد گروہوں کو بہت قریب سے جانتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی عہدیدار اپنے امریکی ہم منصبوں کو بتاتے ہیں کہ چاہے وہ تحریک طالبان پاکستان ہو، حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ، تحریک لبیک، وہ ہماری مسلسل نگرانی میں ہیں۔ لیکن اس یقین دہانی کے باوجود رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں فکرمند ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مئی 1998 سے جب پاکستان نے پہلی مرتبہ جوہری ہتھیاروں کا تجربہ شروع کیا اس کے بعد سے امریکی صدور اس خوف سے پریشان رہے کہ پاکستان کے جوہری ذخیرے غلط ہاتھوں میں چلے جائیں گے۔

Back to top button