کیا عام معافی کی تجویز نے طالبان کو تقسیم کر دیا ہے؟

https://youtu.be/6080IUDgT08
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پاکستانی طالبان سے مذاکرات کی تصدیق کرنے کے فورا بعد شمالی وزیرستان میں سرگرم مسلح گروپ شوریٰ مجاہدین نے یکم اکتوبر سے 20 دن کے لیے فائر بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ بی بی سی نے یہ خبر دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اگر طالبان اور حکومت پاکستان کے مابین جاری بات چیت میں کامیابی ہوئی تو فائر بندی میں مذید توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان نے واضح کیا ہے کہ انکی تنظیم نے ملک بھر میں کہیں بھی فائر بندی کا اعلان نہیں کیا اور ٹی ٹی پی صرف بامقصد اور بامعنی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے شوری مجاہدین نامی گروپ بھی دراصل پاکستانی طالبان ہی کا حصہ ہے اور اس کی جانب سے فائر بندی کے اعلان سے وزیر اعظم کے اس موقف کی تصدیق ہوتی ہے کہ ٹی ٹی پی میں ایسے گروپس بھی موجود ہیں جو ریاست پاکستان کے خلاف جنگ اب ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا اس نفاق سے فائدہ اٹھانے کے لئے ہی طالبان کو عام معافی کی تجویز دی گئی ہے جس نے ٹی ٹی پی میں پھوٹ ڈال دی ہے۔
تاہم سکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی دعوے ہمیشہ کی طرح ڈھکوسلہ ہیں کیونکہ شمالی وزیرستان کے شوری مجاہدین گروپ کی قیادت حافظ گل بہادر کر رہے ہیں جو 2011 سے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہے اور اسی لیے اس کا شمار گڈ طالبان میں ہوتا ہے، لہذا اس کے ساتھیوں کا فائر بندی کا اعلان کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ حافظ گل بہادر 2007 میں شمالی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر مقرر ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں وہ طالبان کی جانب سے پاکستانی فوج پر حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی تنظیم سے علیحدہ ہو گئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات استوار کر لیے اور 2014 کے فوجی آپریشن میں بالکل خاموش ہو گئے۔ یاد رہے کہ حافظ گل بہادر انگریز سامراج کے خلاف شمالی وزیرستان میں جنگل لڑنے والے معروف پشتون حریت پسند فقیر ایپی کا پوتا ہے اور اپنی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر یقین نہیں رکھتا۔
ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ٹی ٹی پی نے پاکستان میں کہیں بھی فائر بندی کا اعلان نہیں کیا، اسکی اجتماعی پالیسی ہے جس سے کوئی انحراف نہیں کر سکتا۔ تاہم طالبان ترجمان نے یہ بھی کہا کہ وہ بامقصد اور بامعنی مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے یکم اکتوبر کو ایک انٹرویو میں پاکستانی طالبان کے ساتھ افغان طالبان کے ذریعے پس پردہ امن مذاکرات کا انکشاف کیا جو عوام کی جانب سے سخت تنقید کی زد میں ہے اور اس عمل کو طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کے خون سے سودے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ عمران سے پہلے آرمی چیف جنرل باجوہ، صدر عارف علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمود نے بھی طالبان کو ہتھیار پھینکنے کے عوض عام معافی دینے کی بات کی تھی لیکن یہ انکشاف پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ حکومت کے ٹی ٹی پی سے پہلے سے ہی مذاکرات چل رہے ہیں جن کا علم ملک کی پارلیمینٹ کو بھی نہیں۔
شمالی وزیرستان سے آنے والی اطلاعات کے مطابق 29 روزہ فائر بندی کا اعلان شوریٰ مجاہدین گروپ کے دو سرکردہ رہنماؤں صادق نور اور صدیق اللہ نے حافظ گل بہادر کی مرضی سے کیا ہے۔ شمالی وزیرستان کی شوریٰ مجاہدین نے یہ اعلان اسی روز کیا جس دن وزیر اعظم عمران خان نے ترک ٹی وی چینل کو انٹرویو میں تحریک طالبان سے مذاکرات کی خبر دی۔ عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ٹی ٹی پی میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت کر رہی ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انھیں معاف کیا جا سکتا ہے۔ عمران نے بتایا کہ بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے ہو رہی ہے تاہم وہ اس کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔
دوسری جانب شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق علاقے سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما امن کے قیام کے لیے کافی عرصے سے کوشش کر رہے ہیں اور موجودہ فائر بندی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شوریٰ مجاہدین کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ ایک ماہ سے جاری تھا۔ افغان طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد اس میں تیزی آئی ہے اور یکم اکتوبر بروز جمعہ فائر بندی کا اعلان کر دیا گیا۔ دوسری جانب عسکری ذرائع کا دعوی ہے کہ فائربندی کے اعلان کے بعد تحریک طالبان پاکستان میں ضم ہونے والے دیگر طالبان گروپس بھی بات چیت میں شامل ہو سکتے ہیں تا کہ علاقے میں امن قائم کیا جا سکے۔
