امریکیوں کے قیام کے لئے اسلام آباد کے ہوٹل خالی کرنے کی ہدایت

کابل کے خود کش دھماکوں میں 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے فوری طور پر اپنے شہریوں اور افغانی باشندوں کو پاکستان منتقل کرنے کی درخواست کی یے جسے قبول کرتے ہوئے پاکستانی حکام نے اسلام آباد میں تمام بڑے ہوٹلوں کو خالی کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق امریکہ کی درخواست پر پاکستان نے افغانستان سے آنے والے تین ہزار کے لگ بھگ افغان شہریوں، سفارت کاروں اور امریکی فوجیوں اور شہریوں کو ٹھہرانے کے انتظامات شروع کر دیے ہیں۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے۔مطابق عام تاثر تو یہہ ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر خونی بم دھماکوں کے بعد ہنگامی طور پر پاکستان میں امریکیوں کے لیے رہائش کے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاہم ایسا نہیں ہے بلکہ امریکہ نے پاکستان کو اس سلسلے میں درخواست 20 اگست کو بھیجی تھی۔
یاد رہے کہ 15 اگست کو طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھال کر افغانستان میں اپنی عملداری قائم کر دی تھی۔
تاہم 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس ہونے والے تین خوفناک بم دھماکوں میں 90 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد وہاں سے امریکی شہریوں کو فوری طور پر نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ اسلام آباد میں تقریبا ایک ماہ تک قیام کریں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ کو باقاعدہ طور پر امریکی سفارت خانے کی جانب سے 20 اگست کو درخواست کی گئی تھی کہ راولپنڈی کی نور خان ایئربیس پر افغانستان سے آنے والے امریکی طیاروں کو عارضی قیام کی سہولت دی جائے جس پر امریکی سفارتکار، ملازمین اور افغان شہری سوار ہوں گے۔ اس سلسلے میں انہیں سیکورٹی، خوراک، ایندھن اور قیام کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے اس درخواست کو کیا اور چند مزید سہولیات کی فراہمی کا بھی یقین دلایا تاکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے جا سکیں۔ 26 اگست کو امریکہ نے پاکستان کو دوبارہ آگاہ کیا کہ اسے افغانستان سے آنے والے تین ہزار کے قریب افراد جن کے لیے پاکستان میں تین سے چار ہفتوں تک عارضی قیام کے لیے سہولیات درکار ہیں۔ اس سلسلے میں پہلی پرواز جمعرات کو اسلام آباد پہنچنا تھی تاہم وہ کابل میں دھماکوں کے باعث نہ آسکی۔ ذرائع کے مطابق کل آٹھ امریکی پروازیں پاکستان آئیں گی جن میں ہر ایک پر تقریباً 500 افراد تک سوار ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کل تقریباً تین ہزار افراد کی اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
ترجمان امریکی سفارت خانہ ہیتھر ایٹن نے اس معاملے پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’اس حوالے سے کچھ کہنا ہوا تو میڈیا سے شیئر کیا جائے گا۔‘ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے تمام متعلقہ اداروں کو انتظامات کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے 26 اگست کو ہی ایک مراسلے میں تمام ہوٹل مالکان کو آگاہ کیا تھا کہ غیر ملکی مہمانوں کی آمد کے لیے مقامی طور پر بکنگ ایک ماہ کے لیے بند کر دی جائے تاکہ افغانستان سے ہزاروں کی تعداد میں پاکستان آنے والے مسافروں کو ترجیحی بنیادوں پر رہائش سہولت فراہم کی جا سکے۔ تاہم ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے ٹوئٹر پر وضاحت جاری کی تھی کہ ’ہوٹلوں کو بند نہیں کیا جا رہا نہ پہلے سے موجود مہمانوں کو نکالا جا رہا ہے بلکہ ہوٹلوں کی انتظامیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ نئی بکنگز کرتے وقت بیرون ممالک جانے والے ٹرانزٹ مسافروں کو ترجیح دی جائے۔‘
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے انخلا کرنے والے مسافر ٹرانزٹ فلائٹ کے لیے اسلام آباد آ رہے ہیں، لہازس ان کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے اگلے تین ہفتوں کے لیے کمروں کی بکنگ بند کر دی جائے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق 27 اگست کے روز سے بکنگ بند کرنے کا کہا گیا ہے۔ تمام ہوٹل مالکان کو کہا گیا ہے کہ آئندہ احکامات تک تمام خالی کمرے دارالحکومت کی انتظامیہ کے سپرد کیے جائیں تاکہ مسافروں کو ٹھہرایا جا سکے۔
دوسری جانب آل پاکستان ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عثمان قاضی نے انتظامیہ کے احکامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حکومت کے اس فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہیں کہ ہم پر زبردستی اور غیر قانونی طور پر ایک آمرانہ فیصلہ مسلط کیا جائے تاکہ ہمارے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں امریکیوں اور افغانوں کو مفت سہولت فراہم کی جا سکے۔‘ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ F-9 پارک اور اسلام آباد کی دیگر کھلی جگہوں پر مہاجر کیمپوں کا بندوبست کرے۔ عثمان قاضی کا کہنا تھا کہ افغان مزید کوویڈ کیسز اسلام آباد لائیں گے جو شہریوں کی صحت اور معیشت کو مزید بگاڑ کا سبب بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’پہلے ہی ہوٹل، گیسٹ ہاؤس انڈسٹری کو کورونا کے دور میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے، 30 فیصد یونٹ بند ہو گئے۔ ہمیں حکومت کی طرف سے کوئی مدد کی پیشکش نہیں کی گئی۔‘
