کابل دھماکے: داعش نے اپنے امیر کی ہلاکت کا بدلہ لیا

26 اگست کو کابل ائیرپورٹ اور اس کے قریب ہونے والے 3 خوفناک بم دھماکے داعش یا دولت اسلامیہ خراسان نے اپنے سربراہ عمر خراسانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کیے جس کو افغان طالبان نے قبضے کے فوری بعد کابل کی ایک جیل میں قتل کر دیا تھا۔ کابل بم دھماکوں میں اب تک 90 سے زائد لوگ بشمول 12 امریکی اور 28 طالبان فوجی مارے جا چکے ہیں۔ داعش نے تینوں دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے تاہم وجہ نہیں بتائی۔ تاہم یاد رہے افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان نے کابل کی مختلف جیلوں میں قید تحریک طالبان پاکستان کے 700 سے زائد جنگجوؤں کو تو رہا کر دیا تھا لیکن اپنی مخالف عالمی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ یا داعش خراسان کے گرفتار سربراہ شیخ ابو عمر خراسانی کو 15 اگست کے روز ہی جیل سے نکال کر قتل کر دیا۔ عمر خراسانی کابل میں بگرام فوجی مرکز کے ایک الگ حصہ میں افغان انٹیلجنس ایجنسی کی ایک خصوصی جیل میں قید تھا۔
بتایا گیا ہے کہ افغان صوبے کنڑ میں افغان طالبان کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد افغانستان میں موجود داعش کے تقریبا تمام ٹھکانوں کا خاتمہ ہونے کے بعد اسکے سربراہ عمر خراسانی نے اپنے اہم ساتھیوں سمیت طالبان سے جان بچانے کے لیے اشرف غنی کی حکومت کے سامنے سرنڈر کیا تھا جسکے بعد انہیں قید کر دیا گیا تھا۔ لیکن انکی بدقسمتی کہ افغان طالبان جلد ہی کابل پر قابض ہوگئے اور عمر خراسانی ان کے قابو آ کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ خراسانی کے قتل کے بعد امریکی انٹیلی جنس نے یہ وارننگ جاری کی تھی کہ داعش بدلہ لینے کے لیے لئے کابل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس بڑا حملہ کر سکتی ہے لہذا افغانستان سے باہر نکلنے کے لیے ایئرپورٹ کے علاوہ دیگر ذرائع استعمال کیے جائیں۔ تاہم 26 اگست کی رات داعش نے واردات ڈال دی۔ بتایا گیا یے کہ کابل ایئرپورٹ پر تعینات امریکی اور طالبان دستوں کو ٹارگٹ کرنے کے لیے داعش نے خود کش حملہ آور استعمال کیے جس سے افغان شہریوں اور غیر ملکیوں سمیت درجن سے زائد امریکی فوجی بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
سلفی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے داعش کے سربراہ عمر خراسانی کا اصل نام مولوی ضیاالحق تھا جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع سوکئی سے تھا۔ عمر خراسانی جانوروں کی طرح انسانوں کو مارنے کے لیے بدنام تھا اور اسی وجہ سے افغان طالبان نے اپنے تمام مخالفین کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے داعش کو معافی نہیں دی تھی۔ اسی لیے اس سے قبضہ کرتے ہی فوری طور پر قتل کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ دولت اسلامیہ خراسان دراصل نام نہاد دولت اسلامیہ نامی تنظیم کی علاقائی شاخ ہے جو افغانستان اور پاکستان میں متحرک ہے۔ یہ افغانستان میں موجود جہادی تنظیموں میں سے سب سے زیادہ انتہا پسند اور متشدد تنظیم ہے جو 2015 میں دولت اسلامیہ کے عراق اور شام میں عروج کے زمانے میں قائم کی گئی تھی۔ یہ تنظیم پاکستان اور افغانستان میں جہادی بھرتی کرتی ہے جن میں خاص طور پر افغان طالبان کے وہ ارکان بھی شامل ہوتے ہیں جو کہ افغان طالبان کو کافی انتہا پسند نھیں سمجھتے اور انتہا پسندی کی آخری حدوں کو چھونا چاہتے ہیں۔ داعش خراسان پر حالیہ برسوں میں گھناؤنی ترین کارروائیوں کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے جن میں لڑکیوں کے سکولوں، ہسپتالوں اور میٹرنٹی وارڈ پر حملے بھی شامل ہے جن میں حاملہ عورتوں اور نرسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ طالبان کے برعکس، جن کی دلچسپی صرف افغانستان میں ہے، داعش دنیا بھر میں مغربی، بین الاقوامی اور انسانی فلاح کے اثاثوں کو نشانہ بناتی ہے۔
خیال رہے کہ کابل پر افغان طالبان کے قبضہ سے پہلے ہی اس کے حامی سوشل میڈیاپر کھلم کھلا یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ داعش کے ماضی کے مظالم کی وجہ سے ان کے قیدیوں کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔ دولت اسلامیہ خراسان کا بچا کھچا آخری ٹھکانہ اسوقت افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں ہے جو پاکستان میں انسانی اور منشیات کی سمگلنگ کے روٹوں کے قریب ہے۔ اپنی طاقت کے عروج پر ان کے تین ہزار ارکان تھے لیکن حالیہ برسوں میں امریکہ، افغان سکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے ساتھ لڑائی میں ان کی طاقت میں کمی آئی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ داعش میں شامل ہونے والے زیادہ تر افراد ماضی میں افغان طالبان کا حصہ رہے ہیں لیکن اپنی انتہا پسند نظریات کی وجہ سے وہ طالبان کو چھوڑ کر دولت اسلامیہ کا حصہ بن گئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق داعش یا دولت اسلامیہ خراسان کے حقانی نیٹ ورک سے بھی روابط ہیں اور پھر حقانی نیٹ ورک کے طالبان سے قریبی روابط ہیں۔ کابل کی سکیورٹی کے موجودہ انچارج خلیل حقانی کے سر پر پچاس لاکھ ڈالر کا انعام ہے۔ وہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کے سگے بھائی ہیں اور اس وقت افغانستان کے دارالحکومت کی سکیورٹی ان کے ذمہ ہے۔ اس لیے اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ کابل ایئر پورٹ پر ہونے والے خودکش دھماکے اندرونی کارروائی کا نتیجہ نہ ہوں۔
بہرحال کابل میں ہونے والے خوفناک بم دھماکوں نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ داعش یا دولت اسلامیہ کے جنگجو طالبان کی حکومت کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج ثابت ہوں گے۔
