آبنائے ہرمز، ایران امریکہ کشیدگی کا مرکز کیسے بن گئی؟

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز تنازع کا محور بن چکی ہے جہاں ایران ناکہ بندی اور امریکی پابندیوں کے خاتمے تک اس عالمی گزرگاہ کو کھولنے سے انکاری ہے وہیں امریکہ نے آبنائے ہزرمز کھولنے تک ایران سے کسی قسم کا معاہدہ کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز بارے دونوں ممالک کے سخت موقف کی وجہ سے جہاں مستقل جنگ بندی کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں وہیں امریکہ اور یایران کی ہٹ دھرمی کا خمیازہ تمام دیگر ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت کیلئے محض ایک جغرافیائی راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے، جہاں معمولی سی رکاوٹ بھی پوری دنیا میں توانائی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ اسی لئے امریکہ اور ایران اس عالمی گزرگاہ کو اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں اس بحران نے ایک نیا رخ اس وقت اختیار کیا جب ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو تجاویز بھجوائیں، جن میں سب سے اہم مطالبہ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور بحری نقل و حمل کی بحالی سے متعلق تھا۔ اس پیش رفت نے نہ صرف سفارتی محاذ پر نئی امیدیں پیدا کیں بلکہ پاکستان کو ایک کلیدی ثالث کے طور پر عالمی سطح پر نمایاں بھی کر دیا۔ادھر عالمی طاقتیں بھی آبنائے ہرمز کو کھلوانے کیلئےمتحرک ہو چکی ہیں۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے درمیان رابطہ، اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی مداخلت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا اس بحران کو مزید طول پکڑنے نہیں دینا چاہتی۔ سب کا ایک ہی مطالبہ ہے: ہرمز کھولو، تجارت بچاؤ، معیشت کو سنبھالو لیکن حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور علاقائی اثرورسوخ جیسے بنیادی معاملات پر بیک وقت بات کرے، جبکہ ایران کی حکمت عملی مختلف ہے۔ تہران فوری کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کو مستحکم بنانے اور پابندیوں میں جزوی نرمی کے ذریعے اعتماد سازی چاہتا ہے، جبکہ حساس معاملات کو بعد کے مراحل تک مؤخر کرنا چاہتا ہے۔یہی اختلاف مذاکرات میں تعطل کی اصل وجہ بن چکا ہے۔دوسری طرف ایران کی سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی حد تک تیز ہو چکی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستان، عمان اور روس کے دورے اس بات کا اشارہ ہیں کہ تہران اب محاذ آرائی کے بجائے سفارتکاری کے ذریعے راستہ نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ "شٹل ڈپلومیسی” کسی بڑی پیش رفت کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہو گیا ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال کیے بلکہ ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر اپنی ساکھ بھی مضبوط کی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی تجزیہ کار پاکستان کو اس بحران میں ایک "کلیدی پل” قرار دے رہے ہیں۔تاہم خطرات اب بھی موجود ہیں۔5 مئی کو جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی ہے، اور اگر اس میں توسیع نہ ہوئی تو خطہ ایک بار پھر شدید تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش، تیل کی سپلائی میں خلل، اور عالمی منڈیوں میں بے چینی پہلے ہی خطرے کی گھنٹی بجا چکی ہے۔سوال اب یہ نہیں کہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا دونوں فریق اپنی سخت پوزیشنز سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں؟ مبصرین کے بقول حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش صرف ایران اور امریکا کے مابین وجہ تنازع نہیں رہہ۔ یہ عالمی معیشت، توانائی کی سلامتی اور خطے کے امن کا مسئلہ بن چکی ہے۔ اگر سفارتکاری کامیاب ہوتی ہے تو پاکستان ایک بڑی عالمی کامیابی کا حصہ ہوگا، اور اگر ناکام ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا ہوں گے۔ فیصلہ کن وقت آ چکا ہےاور اب سب کی نظریں ہرمز، واشنگٹن، تہران اور اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں کہ دیکھا جائے پاکستانی ثالثی میں اس تنازع کا کیا حل نکلتا ہے۔
