’’امریکی شہری نے چترال میں سیزن کا پہلا مارخور شکار کرلیا‘‘

امریکی شہری نے سب سے زیادہ بولی دیتے ہوئے رواں سیزن کا پہلا مارخور چترال میں شکار کر لیا ہے، محکمہ جنگلی حیات چترال کے ڈی ایف او فاروق نبی نے اردو نیوز کو بتایا کہ شکار کیے جانے والے مارخور کی عمر 9 سال 6 ماہ ہے، نر مارخور کے سینگوں کا سائز 45 انچ تھا، امریکی شکاری نے اس شکار کے لیے پرمٹ رواں برس اکتوبر میں ہونے والی بولی میں دو لاکھ 32 ہزار امریکی ڈالر (ساڑھے چھ کروڑ روپے)میں حاصل کیا تھا، ابتدائی طور پر بولی کی رقم دو لاکھ 12 ہزار ڈالر تھی جو ٹیکس شامل کر کے دو لاکھ 32 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ کی شروعات 1999 سے ہوئی۔ 1997 میں کنونشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ اِن انڈینجرڈ سپیشیز سے متعلق زمبابوے میں ہونے والی کانفرنس میں پاکستان کو مارخور کے غیرقانونی شکار کو روکنے کے لیے ہنٹنگ ٹرافی دینے کی اجازت دی گئی، ابتدا میں پاکستان کو سال میں چھ ٹرافیوں کی اجازت دی گئی جسے بعد میں بڑھا کر 12 کر دیا گیا، فاروق نبی نے بتایا کہ ٹرافی ہنٹنگ اور کمیونٹی منیجڈ کنزرویشن کی بدولت چترال میں کشمیر مارخور کی تعداد جو 1999 میں چند سو تھی اب ہزاروں تک پہنچ گئی ہے، رواں سال کے پی میں مارخور کے شکار کے لیے چار پرمٹس کی نیلامی ہوئی، ان میں سے تین پرمٹس چترال اور ایک کوہستان میں دیئے گئے تھے۔خیال رہے پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ سکیم کے تحت ہر سال مارخور کے شکار کے لیے 12 لائسنسز جاری کیے جاتے ہیں، محکمہ جنگلی حیات کے اہلکار شکار کیے گئے مارخور کے سینگوں کی پیمائش کرتے ہیں جسے شکاری کے حوالے کیا جاتا ہے۔ شکاری سینگ کو بطور ٹرافی اپنے ساتھ لے جاتا ہے، ٹرافی ہنٹنگ کی شروعات مارخور کے غیرقانونی شکار کو روکنے اور ان کی نسل کو محفوظ بنانے کے لیے کی گئی تھی۔وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ چترال کے ڈی ایف او فاروق نبی کا کہنا ہے پہلے مقامی کمیونٹی مارخور کا غیرقانونی طریقے سے بے دریغ شکار کرتی تھی، ٹرافی کی رقم کا 80 فیصد مقامی کمیونٹی پر خرچ کیا جاتا ہے، مقامی تنظیم کے ذریعے یہ رقم صحت، صاف پانی اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔نیلامی میں شکاریوں کی جانب سے ٹرافی ہنٹ آؤٹفٹرز حصہ لیتے ہیں جو کہ ایک طرح سے ٹھیکیدار ہوتے ہیں، غیرملکی شکاری ان آؤٹ فٹرز کی مدد سے شکار کے لیے ٹرافی کی نیلامی میں حصہ لیتے ہیں۔ سب سے زیادہ بولی دینے والے کو ٹرافی دی جاتی ہے۔ٹرافی ہنٹنگ کے قواعد کے مطابق اگر شکاری پہلے سال ٹرافی ہنٹنگ کسی بھی وجہ سے نہیں کر سکے تو وہ اگلے سال اسی پرمٹ پر شکار کر سکتا ہے۔ لیکن دو سال کے بعد پرمٹ ایکسپائر ہوجاتا ہے۔ فاروق نبی کا کہنا تھا کہ اگر ٹرافی ہنٹنگ کے دوران شکاری کا فائر مس ہو گیا اور مارخور بھاگ گیا تو بھی پرمٹ قابل استعمال رہتا ہے، اگر شکاری کی فائرنگ سے مارخور زخمی ہو گیا مگر ہاتھ نہیں آیا تو بھی یہ شکار تصور ہوگا اور شکاری کو مزید شکار کی اجازت نہیں ہوگی۔
