امریکی شہر کیمبرج میں بھارت کے متنازع قانون کیخلاف قرارداد منظور

امریکا کی ریاست میساچیوسٹس کے شہر کی سٹی کونسل نے بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف قرارداد منظور کرلی اس پہلے سیٹل سٹی کونسل نے بھی ایسی ہی ایک قراردار منظور کی تھی۔
کیمبرج سٹی کونسل میں یہ قراداد متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں بھارتی وزیراعظم مودی کی حکومت کو نسل پرستانہ اور حکومتی پالیسیوں کو جابرانہ قرار دیتے ہوئے ان پالیسیوں کو شہری اقدار کے منافی کہا گیا ہے۔ سٹی کونسل کی قراداد کا جنوبی ایشیائی کمیونٹیز اور تمام مذاہب کی جانب سے خیر مقدم بھی کیا گیا ہے۔ کیمبرج سٹی کونسل نے زور دیا کہ اس کا کانگریس وفد امریکی کانگریس میں بھارت میں اس طرح کی پالیسیوں کے نفاذ کو روکنے کےلیے ہونے والی قانون سازی میں مدد کرے گا۔ امریکی شہروں میں یہ قراردادیں ایسے وقت میں منظور کی گئیں جب امریکی صدر ٹرمپ جلد بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔
یاد رہے کہ متنازع شہریت بل 9 دسمبر 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (لوک سبھا) سے منظور کروایا گیا اور 11 دسمبر کو ایوان بالا (راجیہ سبھا) نے بھی اس بل کی منظوری دے دی تھی۔ بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی جانب سے بل پیش کیا گیا جس کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔
