امریکی صدر کا ایرانی جنگی کشتیوں کو مارگرانے کا حکم

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نیوی کو حکم دیا ہے کہ ایرانی جنگی کشتیاں ‘ہراساں’ کریں تو انھیں بلا تردد مار گرائیں. یاد رہے کہ امریکہ بحریہ نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی 11 گن بوٹس نے خلیج عرب میں امریکی بحریہ اور کوسٹل گارڈز کے بحری جہازوں کو ہراساں کیا تھا۔
ایران کی جانب سے بدھ کو ایک مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہو گئی ہے. پاسداران انقلاب کی جانب سے بدھ کو ایک مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے کوئی سیارہ خلا میں بھیجا ہو۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ یہ جاننا قبل از وقت ہو گا کہ آیا ایران نے جو مصنوعی سیارہ مدار میں چھوڑا ہے وہ آپریشنل ہے یا نہیں۔دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ خلا میں بھیجا جانے والا یہ مصنوعی سیارہ ایران کے طویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ جہازوں کو ’ہراساں‘ کرنے والی ایرانی جنگی کشتیوں کو تباہ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ سفارت کار نے ایران پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ایران کے اعلان کے بعد صدر ٹرمپ نے کسی مخصوص واقعے کا ذکر کیے بغیر ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا: میں نے امریکی بحریہ کو ہدایت کی ہے کہ اگر ایرانی جنگی کشتیاں سمندر میں امریکی بحری جہازوں کو ہراساں کریں تو انہیں تباہ کر دیا جائے۔گذشتہ بدھ کو امریکہ بحریہ نے کہا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی 11 گن بوٹس نے خلیج عرب میں امریکی بحریہ اور کوسٹل گارڈز کے بحری جہازوں کے قریب ‘خطرناک اور ہراساں کرنے’ کی کارروائی کی۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی مسلح بوٹس امریکی بحری جہازوں کے قریب آئیں تو امریکی نیوی انہیں تباہ کردے گی۔عرب میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوان امریکی صدر نے مزید کہا کہ اب ہم اسی پر برقرار نہیں رہیں گے اگر وہ (ایرانی) ہماری شپس، کریو ممبران اور سیلرز کو خطرات میں ڈالیں گے تو میں انہیں یہ نہیں کرنے دوں گا اور ہم انہیں پانی سے باہر اٹھا کر پھینک دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک دھمکی ہے، جب وہ ہمارے جہاز کے انتہائی قریب آتے ہیں اور ان کے پاس ہتھیار ہیں، ان کی مسلح کشتیوں میں بھی بہت اہم ہتھیار ہیں مگر ہم انہیں نشانہ بناکر پانی سے باہر پھینک دیں گے۔دوسری جانب پینٹاگون کے سینئر حکام کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ امریکی صدر کے بیان کا مطلب تہران کے لیے ایک وارننگ ہے مگر امریکی افواج اپنے دفاع کے حق کے استعمال کی پابند ہیں۔امریکی نائب وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو اہم وارننگ جاری کی ہے اور وہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ہمارے تمام جہاز اپنے دفاع کا حق رکھتے ہیں۔
امریکی صدر کے بیان پر ایرانی فوج کے ترجمان نے اپنے رد عمل میں کہا کہ امریکا کو اپنی افواج کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے پر توجہ دینا چاہیے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ گذشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعے کا ذمہ دار امریکہ ہے۔
2018 میں ایران کے ساتھ عالمی ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں شدت آ گئی تھی اور امریکہ نے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس سال جنوری میں ایران کے طاقت ور ترین جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد دو طرفہ کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی۔ ایران نے امریکی اقدام کا جواب مغربی عراق میں واقع امریکی فوجی اڈے پر بلِسٹک میزائلوں کے حملے سے دیا تھا۔
