امریکی گلوکارہ برٹنی سپیئرز والد کی سرپرستی سے آزاد

گلوکارہ و اداکارہ برٹنی اسپیئرز کو ’سرپرستی‘ 14 سال بعد ختم کرکے انہیں اپنی مرضی کے مطابق آزاد زندگی گزارنے کا حق مل گیا۔

لاس اینجلس کی سپریم کورٹ نے 12 نومبر کو برٹنی سپیئرز کی ’سرپرستی‘ ختم کر دی ، کیس کی سماعت کرنے والی جج برینڈا پینی نے گلوکارہ کی ’سرپرستی‘ ختم کرکے بعض افراد کو کچھ ہفتوں تک ذمہ داریاں دیں ۔ عدالت میں سرپرستی ختم کرنے کی سماعت 30 منٹ تک جاری رہی۔

عدالت کے باہر گلوکارہ کے مداح ہزاروں کی تعداد میں جمع تھے ، اسی حوالے سے خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) نے بتایا کہ عدالت نے فوری طور پر برٹنی سپیئرز کی ’سرپرستی‘ ختم کی۔عدالت کی جانب سے برٹنی اسپیئرز کی ذہنی صحت سے متعلق کوئی بھی ہدایت جاری کیے بغیر انہیں ان کی مرضی کے مطابق آزاد زندگی کا اختیار دیا گیا۔

اپنے حق میں عدالتی فیصلے کے فوری بعد برٹنی اسپیئرز نے انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر عدالتی فیصلے کو زندگی کا سب سے بڑا دن اور سب سے بڑی فتح قرار دیا ، عدالت کی جانب سے ان کی ’سرپرستی‘ کو باضابطہ ختم کرنے سے قبل رواں برس ستمبر میں عدالت نے برٹنی سپیئرز کے والد کو ’سرپرستی‘ سے ہٹایا۔

برٹنی سپیئرز کے والد فروری 2008 سے ان کے قانونی ’سرپرست‘ تھے اور گلوکارہ انہیں گزشتہ دو سال سے ہٹوانے کی کوششوں میں مصروف تھیں۔

Back to top button