امپورٹڈ اور گھریلو استعمال کی اشیا سستی کیوں ہونے لگیں؟

ملک بھر میں ڈالر کی گرتی قدر کے باعث امپورٹڈ اشیا کی قیمتوں میں اچانک کمی ہونے لگی ہے، الیکٹرانک آئٹم، آٹو موبائل، امپورٹڈ فوڈ آئٹمز سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔معیشت پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عام آدمی کے استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں کمی خوش آئند ہے، حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے کہ ڈالر مہنگا ہونے پر اشیا خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے حساب سے اب کمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کو انٹربینک مارکیٹ میں 286 روپے کی سطح پر تھا جبکہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر جمعہ کے روز انٹربینک مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 282 روپے 69 پیسے کی سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی کے اثرات اب مارکیٹ میں نظر آنے لگے ہیں۔ رواں ہفتے پاکستانی کار ساز کمپنی لکی موٹرز کارپوریشن نے اپنی مختلف ماڈل کی گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک لاکھ سے پانچ لاکھ روپے تک کمی کا اعلان کیا، کمپنی کا کہنا ہے کہ اس لیے کمپنی کی مختلف ماڈل کی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی جا رہی ہے۔الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما منہاج گلفام کے مطابق ’روپے کی قدر میں بہتری کے بعد پاکستان میں استعمال ہونے والے موبائل فونز، اے سی، فریج، ایل سی ڈیز سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی، مقامی سطح پر تیار ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ بیرون ممالک سے آنے والے سامان کی ڈیوٹیز اور خریداری میں کمی کی وجہ سے یہ اثر مارکیٹ میں دیکھا جا رہا ہے۔کراچی تاجر اتحاد کے رہنما اسماعیل لال پوری کا کہنا ہے کہ ’بولٹن مارکیٹ سمیت دیگر ہول سیل مارکیٹوں میں سامان کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی جا رہی ہے۔بچوں کے کھانے پینے کی اشیا، ڈائپرز اور خشک دودھ سمیت دیگر درآمدی اشیا کی قیمت میں 10 سے 50 روپے تک کی کمی رپورٹ کی گئی ہے۔معاشی امور کے ماہر عبدالعظیم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا سلسلہ برقرار ہے، یہ ملکی معیشت کے لیے بہتر ہے، پاکستانی روپے پر ستمبر میں وقت کی ستمگری بتدریج مہربانی میں تبدیل ہوتی دکھائی دی اور یہ سلسلہ رواں ماہ بھی جاری و ساری ہے جس کے پہلے کاروباری ہفتے میں بھی روپے کی قدر میں بتدریج اضافہ ہوا۔گزشتہ ہفتے جن اشیائے خورونوش کی قیمتیوں میں کمی واقع ہوئی ان میں ٹماٹر، مرغی کا گوشت، چینی، دالیں گڑ، گندم کا آٹا، خوردنی تیل، سرسوں کا تیل وغیرہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی۔اسی حوالے سے یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن کے عہدیدار نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گھی کی قیمت میں 60 روپے تک کمی ہوئی ہے۔معروف برانڈزکے گھی کی قیمت میں 60 روپے فی کلو کی کمی کی گئی ہے جب کہ نئی قیمتوں کے مطابق بی آئی ایس پی کے رجسٹرڈ صارفین کے لیے گھی 385 روپے فی کلو سے گھٹا کر 325 روپے فی کلو کر دیا گیا ہے جبکہ عام صارفین کے لیے یہ قیمت 455 روپے سے کم کرکے 395 روپے فی کلو کر دی گئی ہے۔یوٹیلیٹی اسٹورز پر تو پہلے ہی چینی مارکیٹ کے مقابلے میں 30 روپے سستی مل رہی تھی اور اب بھی اتنی ہی یعنی 130 روپے فی کلو ہے جبکہ آٹے کے 10 کلو تھیلے کی قیمت 648 روپے ہے۔پاکیزہ کیش اینڈ کیری کے مالک نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آٹے کی قیمت میں کوئی کمی نہیں ہوئی البتہ چینی کی قیمت 2 مینے قبل بھی 200 روپے فی کلو تھی جو کم ہو کر اب 160 روپے ہے اور کھانے کے تیل کی قیمتیں تقریبا 500 یا اس سے زیادہ تھیں جو کہ اب 350 تک آ چکی ہیں، اسی طرح ستمبر کے مہینے میں پیٹرول کی قیمت 331.38 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی تھی جو کہ یکم اکتوبر سے 8 روپے کم ہو کر 323.38 روپے فی لیٹر پر آ گئی ہے۔

Back to top button