انجینئر محمد علی مرزا کو مارنے کی کوشش کس نے کی؟

فرقہ واریت سے ماورا اور مضبوط دلائل سے بھرپور گفتگو کرنے والے عالم دین انجینئر محمد علی مرزا سے تقریباً ہر مسلک کے لوگ ناراض رہتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے پچھلے ہفتے ان پر جہلم میں ایک نوجوان نے چاقو سے قاتلانہ حملہ کیا، تاہم وہ زخمی تو ہوئے مگر ان کی جان بچ گئی۔ محمد علی مرزا کا کہنا یے کہ وہ کسی مسلک سے تعلق نہیں رکھتے اور صرف دلیل اور حوالوں پر مبنی سچی بات کرتے ہیں لیکن پھر بھی چند گمراہ لوگ ان کی جان کے درپے ہیں۔
ہلکے پھلکے انداز میں مسکراتے ہوئے بات کرنے والے انجینئر محمد علی مرزا پاکستان کے ایک معروف مبلغ ہیں جو اپنے غیر روایتی نظریات کی بنا پر اکثر زیرِ بحث رہتے ہیں۔جہلم سے تعلق رکھنے والے انجینئر محمد علی مرزا اسی شہر میں واقع اپنے مدرسے میں مختلف مذہبی موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں جس کے دوران لوگوں کے سوالوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پچھلے اتوار وہ ایسے ہی ایک درس کے بعد لوگوں کے ساتھ تصاویر بنوا رہے تھے کہ ان پر ایک نوجوان نے چاقو سے حملہ کر دیا اور انہیں مارنے کی کوشش کی۔ تاہم حملہ آور کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ جہلم پولیس کے مطابق انجینئر محمد علی مرزا کو اس واقعے میں بازو پر چاقو کا زخم آیا ہے، تاہم وہ محفوظ ہیں۔ جہلم کے تھانہ سٹی میں اس واقعے کی ایف آئی آر اقدامِ قتل کے تحت درج کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق انجینئر محمد علی مرزا پر حملہ کرنے والا نوجوان پہلے بھی انہیں سننے کےلیے آتا رہا تھا تاہم مزید معلومات حاصل کرنے کےلیے تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ انجینئر محمد علی مرزا کے اپنے یوٹیوب چینل پر موجود 1600 سے زائد ویڈیوز لاکھوں مرتبہ دیکھی جا چکی ہیں اور ان کے سبکسرائبرز کی تعداد 14 لاکھ سے زیادہ ہے۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے محمد علی مرزا کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُن کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ کسی مذہبی یا سیاسی گروہ سے تعلق نہیں رکھتے چنانچہ وہ آزادی سے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔
انجینئر محمد علی مرزا نے گزشتہ سال عورت مارچ کے بارے میں بھی گفتگو کی تھی اور اس میں لگائے جانے والے نعروں اور پلے کارڈز کو قابلِ اعتراض قرار دیا تھا۔ مگر ساتھ ہی ساتھ انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے کہ عورتوں کو پاؤں کی جوتی بنا کر رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس ویڈیو میں عورت مخالف علما پر بھی سخت تنقید کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے معاشرے میں عورتوں کو جائیداد میں حق نہ دینے، مارنے پیٹنے، اور تیزاب گردی کے حملوں پر بھی کھل کر بات کی اور ان حرکتوں کی مذمت کی تھی۔
صحافی کلبِ علی کا کہنا ہے کہ انجینئر محمد علی مرزا کی بات کا جواب عام طور پر دلیل سے نہیں دیا جاتا بلکہ اس کے جواب میں اُن کی شخصیت کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ محمد علی مرزا سے تقریباً ہر مسلک کے لوگ ہی ناراض ہوتے ہیں کیوں کہ وہ دلیل سے بات کرتے ہیں جو کبھی کسی مسلک کے لوگوں کے خلاف ہوتی ہے تو کسی کے حق میں۔ لیکن اس کے باوجود لاکھوں لوگ ان کے فالوورز ہیں جو کھلا ذہن رکھتے ہیں اور اُن کی گفتگو کو شوق سے سنتے ہیں۔ اس بات کا اندازہ اُن کی یوٹیوب ویڈیوز کے نیچے موجود کمنٹس سے بھی ہو سکتا ہے جس میں زیادہ تر لوگ انہیں لوگوں کو متحد کرنے والا شخص قرار دیتے ہیں جب کہ کچھ لوگ یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ وہ اُن سے اختلاف رکھتے ہیں مگر اُن کے دلائل کا جواب نہیں رکھتے۔ کلبِ علی بتاتے ہیں کہ انجینئر محمد علی مرزا کو اکثر و بیشتر مختلف مسالک کی جانب سے ایک دوسرے کا ‘ایجنٹ’ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم اُن کی باتوں کو دلیل سے رد کرنے کے بجائے اُن کی ذات کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اُن کے مطابق محمد علی مرزا کی ایسی ہی گفتگو کی وجہ سے کچھ شخصیات اور لوگ اُن کے خلاف اشتعال رکھتے ہیں اور بعید نہیں ہے کہ اُن پر حملہ کرنے والا شخص اُن کے خلاف کسی کی تقریر سُن کر جذباتی ہوگیا ہو۔
یاد رہے کہ انجینئر محمد علی مرزا پر اس سے پہلے بھی اکتوبر 2017 میں قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ مئی 2020 میں اس وقت اُن پر مذہبی شخصیات کے خلاف ‘اشتعال انگیز’ تقریر کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا تاہم وہ ضمانت پر رہا ہوگئے تھے۔ ٹوئٹر پر محمد علی مرزا کا نام پیر 15 مارچ کو ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا اور عمومی طور پر لوگ اُن سے اپنے اختلاف کا اظہار کرنے کے ساتھ ہی اُن پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے نظر آئے۔ ایک صارف ظہیر الحسن نے کہا کہ آپ اُن سے چند مسائل پر اختلاف کر سکتے ہیں مگر وہ اُن مسائل پر بات کرنے کی ہمت کرتے ہیں جس پر بہت سے لوگ نہیں کرتے۔ ہمارے قابل احترام علما کو آگے بڑھ کر اختلافِ رائے کےلیے احترام اور برداشت کا درس دینا چاہیے۔
عمر خان نے لکھا کہ یہ ہوتا ہے جب آپ حق اور سچ بات کرتے ہیں تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم امن و بھائی چارے کے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتے۔
صائم نامی ایک صارف نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ محمد علی مرزا محفوظ ہیں، ساتھ ہی کہا کہ تمام اختلافات کے باوجود یہ صحیح طریقہ نہیں ہو سکتا اور وہ اس ‘شرمناک اقدام’ کی مذمت کرتے ہیں۔ عائشہ حنیف نے لکھا کہ انجینئر محمد علی مرزا پاکستان کے وہ واحد شخص ہیں جو کسی ‘فرقہ واریت’ کو فروغ نہیں دے رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر چیز قرآن اور صحیح حدیث کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔
