انٹیلی جنس بیورو اور ایف آئی اے حکام آمنے سامنے آ گئے

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مرکزی حکومت کے تحت کام کرنے والی خفیہ ایجنسی انٹیلی جنس بیورو کے اعلیٰ حکام پر اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملات میں بڑے پیمانے پر مالی گھپلے کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی بی والے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی کرپشن کی تحقیقات کروانے سے مکمل طور پر انکاری ہیں۔
یہ تنازعہ تب شروع ہوا جب سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو انٹیلی جنس بیورو کی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہونے والے گھپلوں کی تحقیقات کا حکم دیا، تاہم انٹیلی جنس بیورو نے خود کو ایک خود مختار ادارہ قرار دیتے ہوئے ایف آئی اے سے تحقیقات میں تعاون کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ آئی بی حکام نے ایف آئی اے کی تحقیقات رکوانے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے ایف آئی اے کو اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کو کہا تا کہ معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔ اب ایف آئی کی جانب سے انٹیلی جنس بیورو ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہونے والی مبینہ ٹیکس چوری اور غیر قانونی توسیع بارے ایک مفصل رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی ہے جس میں سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ایف آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی بی ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایات پر شروع کی گئیں لیکن انٹیلی جنس بیورو کے اعلیٰ حکام تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے۔ سپریم کورٹ نے 15 جنوری 2019 میں ایف آئی اے کو آئی بی ہاؤسنگ سوسائٹی میں بدعنوانی کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
دوسری جانب انٹیلی جنس ایجنسی کے سینئر افسران پر مشتمل آئی بی ای سی ایچ ایس کی انتظامی کمیٹی نے ایف آئی اے کی تحقیقات کو چیلنج کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ اس کے مالی معاملات کی تحقیقات پہلے ہی مکمل ہو چکی ہیں، اسلیے ان کی دوبارہ تفتیش نہیں ہو سکتی۔
دوسری جانب ایف آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اس کیس کو کبھی بند نہیں کیا اور اسی وجہ سے سپریم کورٹ نے بھی اس کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق آئی بی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فیز ون اور ٹو کی سائٹ کے معائنے کی سفارش کی گئی تھی جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے ساتھ ساتھ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے بھی ریکارڈ طلب کیا۔ ایف آئی اے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی بی ہاؤسنگ سوسائٹی نے مطلوبہ ریکارڈ اور ڈیٹا فراہم نہیں کیا اور اسکی بجائے اس نے عدالت میں درخواست دائر کردی۔
ایف آئی اے کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ہاؤسنگ اور کوآپریٹو سوسائٹیوں کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار کے پیش نظر عدالت عظمیٰ نے ایف آئی اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ فرانزک آڈٹ کرنے کے لیے ایف آئی اے، قومی احتساب بیورو، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے سینئر ڈائریکٹرز، صوبوں اور ضلعی کلیکٹرز پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے۔
ایف آئی اے نے عدالت سے آئی بی کی دائر درخواست کو خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے متعلقہ سوسائٹی کے عہدیداروں پر الزام لگایا کہ وہ تحقیقات کا حصہ بننے کے بجائے انتظامیہ اور ملازمین کی بڑے پیمانے پر کرپشن کی تحقیقات میں روڑے اٹکا رہے ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ دال میں واقعی کچھ کالا ہے۔
