ایک کروڑ نوکریاں دینے والے کپتان نے لاکھوں بے روزگار کر دئیے


ایک کروڑ نوکریاں دینے کی دعویدار وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں پاکستانی معیشت کے ساتھ ایسا کھلواڑ کیا ہے کہ اب تک لاکھوں لوگ بےروزگار ہوچکے ہیں جب کہ برسر روزگار 88 فیصد پاکستانیوں کو ہر لمحہ اپنے روزگار چھن جانے کا خوف لگا رہتا ہے۔ ایک بین الاقوامی ریسرچ کمپنی اپسوس کے تازہ سروے کے نتائج کے مطابق پاکستانیوں کی اکثریت اپنے معاشی حالات کے حوالے سے شدید پریشانی کا شکار ہے۔ اکثر پاکستانی سمجھتے ہیں کہ حکومت کی سمت درست نہیں جس کے باعث ان کی مایوسی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی۔
اپسوس کے حالیہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانیوں کا نمبر ون مسئلہ مہنگائی ہے، 87 فیصد پاکستانیوں نے ملکی سمت پر شدید پریشانی کا اظہار کیا اور اسے غلط قرار دیا جبکہ 13فیصد نے ملکی سمت کو درست قرار دیا۔ اپسوس کی جانب سے تیار کررہ کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کی چوتھی سہ ماہی کی سروے رپورٹ کے مطابق 43 فیصد پاکستانیوں نے مہنگائی کو ملک کا سب سے زیادہ پریشان کن مسئلہ قرار دیا ہے۔ 14فیصد نے لوگوں نے بیروزگاری جبکہ 12فیصد نے غربت کواپنا سب سے اہم اور پریشان کن مسئلہ قرار دیا۔ ملک کی معاشی صورت حال میں بہتری کے حکومتی دعووں پر بھی پاکستانیوں نے اعتبار نہیں کیا اور 46 فیصد نے موجودہ ملکی معیشت کو کمزور ترین کہا جبکہ صرف 5 فیصد افراد نے موجودہ معیشت کو مضبوط جانا۔
مستقبل میں پاکستانی معیشت میں بہتری کی امید کے سوال پر 64 فیصد پاکستانیوں نے مایوسی کا اظہار کیا اور ملکی معیشت کے کمزور رہنے کا خدشہ ظاہر کیا۔ یاد رہے کہ اپسوس کا کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس سروے نومبر2021 میں کیا گیا جس میں 43 فیصد پاکستانیوں نے مہنگائی کو ملک کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا۔ اپسوس کے مطابق گزشتہ سروے میں 26 فیصد لوگون نے نے مہنگائی کو ملک کا اہم ترین مسئلہ بتایا تھا جس میں اب 17 فی صد تک کا اضافہ ہو گیا ہے جو کہ پاکستانی عوام کی بڑھتی ہوئی پریشانیوں اور مشکلات کا واضح ثبوت ہے۔ 14 فیصد پاکستانیوں نے بیروزگاری، جبکہ 12 فیصد نے غربت کو ملک کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا۔ اس سروے میں کرونا وائرس کو ملک کا اہم مسئلہ قرار دینے والوں کی شرح 18 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد نظر آئی، 5 فیصد پاکستانیوں نے ٹیکسوں کے بوجھ، 4 فیصد نے روپے کی قدر میں کمی، 3 فیصد نے بجلی کی قیمت میں اضافے، 2 فیصد نے کرپشن، رشوت ستانی ل، ملاوٹ اور اقربا پروری کو ملک کا اہم مسئلہ کہا۔ 2 فیصد نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ، ایک فیصد نے مختلف محکموں کی ایک دوسرے کے کام میں مداخلت، جبکہ ایک فیصد نے قانون اور انصاف کے نفاذ میں امتیازی سلوک کو ملک کا اہم مسئلہ قرار دیا۔
سروے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ دیگر اہم مسائل کا حوالہ دیے جانے کے باوجود ذیادہ تر پاکستانیوں نے مہنگائی اور معاشی مشکلات کو ہی اہم مسائل کی فہرست میں سب سے اور پر شمار کیا۔ اپسوس نے یہ بھی خصوصا نوٹ کیا کہ مہنگائی اور بے روزگاری گزشتہ دو برسوں سے پاکستانیوں کے اہم ترین مسائل میں سرفہرست ہیں۔

Back to top button