میڈیا سنسرشپ کے بعد سرکاری ملازمین کی بھی زبان بندی


کپتان حکومت کی جانب سے پاکستانی میڈیا کو سچ بولنے کی پاداش میں پابند سلاسل کیے جانے کے بعد اب سوشل میڈیا پر اپنے حکومت مخالف جذبات کا اظہار کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف بھی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جو کہ ایک نئی مثال ہے۔
ایک فیس بک پوسٹ میں حکمران جماعت تحریک انصاف اور افغان طالبان کو آئی ایس آئی کا پروردہ اور کنفیوژن کا شکار قرار دینے والے گریڈ 21 کے بیوروکریٹ حماد شمیم کے خلاف ایف آئی اے کو کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری افسر کو ایک اوپن سیکرٹ بیان کرنے پر معتوب ٹھہرانا حکومتی بوکھلاہٹ کی دلیل ہے اور بجائے کہ حکومت اپنی پالیسیاں درست کرے، اس نے غلط پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینا شروع کر دیا ہے۔
سرکاری افسر کے خلاف ایکشن لینے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے قانونی ماہرین کہتے ہیں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سرکاری افسر کا کنڈکٹ دیکھنا ہو گا۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے جاری ہونے والے ایک خط کے مطابق گریڈ 21 کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری حماد شمیمی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں حکومت پر طنز کرتے ہوئے لکھا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف اور طالبان میں ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ دونوں حکومت ملنے کے بعد سوچ رہے ہیں کہ اسے چلانا کیسے ہے۔ حماد شمیمی کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف اور طالبان کی امیدوں کا مرکز بھی آبپارہ ہے۔ یاد رہے کہ آبپارہ اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس کے ایک علاقے کا نام ہے جس کے بالکل قریب پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا ہیڈکوارٹر واقع ہے۔ پاکستان میں عام گفتگو کے دوران اس حساس ادارے کا نام لینے کے بجائے اکثر اسے آبپارہ سے یاد کیا جاتا ہے۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹی فکیشن کے مطابق گریڈ 21 کے افسر حماد شمیمی نے سول سرونٹ رولز 2020 کی خلاف ورزی کی ہے اور ان کے خلاف ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ثنا اللہ عباسی کابینہ ڈویژن کی طرف سے جاری رولز 9 ون سی کے تحت سول سرونٹ رول 15 کے مطابق تحقیقات کریں گے۔ یہ انکوائری سرکاری ملازمین سے متعلق رول نمبر 10 اور 12 کے مطابق کی جائے گی جو 60 روز کے اندر مکمل کی جائے گی۔ اس مدت میں حکام کی اجازت سے اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ڈی جی ایف آئی اے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ انکوائری مکمل ہونے کے سات روز بعد رپورٹ پیش کریں جس میں اس الزام کا ثابت ہونا یا نہ ہونا واضح طور پر بتایا جائے کہ آیا سرکاری افسر رولز کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انکوائری افسر کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس حوالے سے سفارشات بھی دیں کہ افسر کے خلاف الزام ثابت ہونے کی صورت میں کیا سزا دی جاسکتی ہے۔ اس بارے میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے سابق ڈائریکٹر عمار جعفری کہتے ہیں حکومتی نوٹی فکیشن کے مطابق جو رولز لکھے گئے ہیں وہ درست ہیں۔ ان کے بقول کوئی بھی سرکاری افسر ایسا بیان نہیں دے سکتا جس سے حکومت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے۔ عمار جعفری نے کہا کہ بہت سے سرکاری افسر سوشل میڈیا معمول کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص اس قسم کا حکومت مخالف بیان دینا چاہتا ہے تو اسے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس بارے میں واضح طور پر اپنی ذاتی رائے کو سرکاری خیالات سے الگ ظاہر کرنا ہوگا لیکن اس میں بھی مشکل ہے کہ بعض سرکاری افسران کے ذاتی خیالات کو بھی سرکاری رائے ہی سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انکوائری افسر پر منحصر ہے کہ وہ تحقیقات کے بعد کیا فیصلہ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا کا بائیومیٹرک ڈیٹا ہیک کیے جانے کا انکشاف

انکوائری کے بعد حماد شمیمی کے خلاف کیا کارروائی کی جاسکتی ہے؟ اس سوال پر سینئر وکیل لیفٹیننٹ کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کہتے ہیں اس معاملے میں افسر کے کنڈکٹ کو دیکھنا ضروری ہے۔ اگر افسر سے ماضی میں اس طرح کی کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی تو اسے وارننگ دے کر معاملہ ختم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس بارے میں انکوائری افسر پر منحصر ہے کہ وہ حالات کو کس طرح دیکھتا ہے۔ یاد رہے کہ حکومت کی طرف سے رواں برس 25 اگست کو جاری نوٹی فکیشن میں سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ کوئی بھی سرکاری ملازم، حکومت کی اجازت کے بغیر کسی میڈیا پلیٹ فارم میں شرکت نہیں کر سکتا۔ اس نوٹی فکیشن کے تحت سرکاری ملازمین کو گورنمنٹ سرونٹس رولز 1964 کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سمیت مختلف میڈیا پلیٹ فارم میں شرکت کی نگرانی کی جاتی ہے۔ رولز 18 سرکاری ملازم کو کسی دوسرے سرکاری ملازم یا نجی شخص یا میڈیا سے سرکاری معلومات یا دستاویز شیئر کرنے سے روکتا ہے۔ جب کہ رول 22 کے تحت سرکاری ملازم کو میڈیا پر یا عوامی سطح پر کوئی بھی ایسا بیان یا رائے دینے سے روکا گیا ہے جس سے حکومت کی بدنامی کا خطرہ ہو۔

Back to top button