انڈونیشیا کی سڑکوں پر ’چاندی کے بھکاریوں‘ کا راج

پچھلے ایک سال سے انڈونیشیا کے کئی شہروں کی گلی کوچوں میں اور شاہراہوں پر چاندی جیسی رنگت والے بھکاری جا بجا نظر آنے لگے ہیں اور اپنی اسی ہیئت کذائی کی بناء پر وہ مقامی لوگوں اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
مقامی زبان میں انہیں ’’منوسیا سلور‘‘ یعنی چاندی کا آدمی کہا جاتا ہے۔ یہ تو نہیں معلوم کہ بھیک مانگنے کےلیے خود کو چاندی کے رنگ میں رنگنے کا سلسلہ کس نے شروع کیا لیکن انڈونیشیا کے بھکاریوں میں یہ رجحان بہت تیزی سے مقبول ہوا ہے۔
silver beggars 02 1593761319اس بارے میں بھکاریوں کا کہنا ہے کہ وہ بازار میں عام ملنے والا سلور اسپرے اپنے پورے جسم پر کرنے کے بعد ہاتھ میں بھیک کا پیالہ یا ڈبا لے کر نکل جاتے ہیں۔ منفرد رنگت کی وجہ سے لوگ دُور ہی سے انہیں پہچان جاتے ہیں اور یوں انہیں دوسرے بھکاریوں کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے بھیک مل جاتی ہے اور انہیں بھیک مانگنے کےلیے صدائیں لگانی نہیں پڑتیں۔
silver beggars 01 1593761317دیگر کئی ملکوں کی طرح انڈونیشیا میں بھی بھیک مانگنا جرم ہے اور حالیہ چند مہینوں سے وہاں کی پولیس نے بطورِ خاص چاندی کے بھکاریوں کے خلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اس سے ’’منوسیا سلور‘‘ کی تعداد میں کچھ کمی ضرور ہوئی ہے لیکن وہ ختم نہیں ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button