اوپن مارکیٹ میں ڈالر250 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

ملکی تاریخ میں امریکی ڈالر روپے کو روندتے ہوئے پہلی باراوپن مارکیٹ میں بلند ترین 250 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قلت کے باعث ریٹ 250 روپے تک کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر آگیا ۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق گزشتہ روز 239 روپے 94 پیسے پر بند ہونے والا روپیہ آج انٹر بینک میں 55 پیسے کمی کے ساتھ 239 روپے 45 پیسے ہوگیا۔
اس صورتحال پرسعد بن نصیر جوکہ میٹیس گلوبل کے ڈائریکٹر ہیں نے کہا کہ آج ڈالر کل کے کلوزنگ ریٹ پر مستحکم ہے، بلکہ انٹر بینک میں اس کی قیمت میں کچھ کمی ہوئی ہے جب کہ گزشتہ 2 سے 3 روز کے دوران اوپن مارکیٹ میں کچھ بے یقینی اور عدم استحکام نظر آرہا ہے،مارکیٹ میں پائی جانے والے اس بے چینی کی وجہ عوام ہیں جو ڈالر خرید کر ذخیرہ کر رہے ہیں، جس کا فائدہ منی چینجر اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہااس صورتحال پر قابو پانے کے لیے اسٹیٹ بینک کو اپنے کاؤنٹرز کھول دینے چاہئیں، اس وقت ڈالر کے ریٹ کو اوپر رکھ کر ٹریڈنگ کے ذریعے منافع کمایا جا رہا ہے، مارکیٹ میں پائی جانے والی اس بے چینی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈالر 245 سے 250 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے،اس وقت روپے پر درآمدات اور برآمدات کا دباؤ نہیں ہے، یہ عوام کی جانب سے خریداری کا دباؤ ہے جو جلد ختم ہوجائے گا،اسٹیٹ بینک پاکستان کے پاس تمام بایو میٹرک ریکارڈ موجود ہے جس کے ذریعے سے با آسانی پتا لگایا جاسکتا ہے کہ ڈالر سے منافع خوری میں کون ملوث ہے۔
ملکی کرنسی کی موجودہ صورتحال پرایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچا کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ڈالر کا ریٹ 255 روپے ہوگیا ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ڈالر یہاں سے افغانستان جارہے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ڈالر کی اسمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات کرے اور افغانستان سے ڈالر کے بجائے پاکستانی کرنسی میں تجارت کرے تاکہ ڈالر کی قیمت میں استحکام لایا جاسکے۔
وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے رواں ہفتے کے شروع میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ روپے پر دباؤ ایک دو ہفتوں میں ختم ہو جائے گا، جلد پاکستان میں ڈالر کی آمد، اس کے اخراج سے زیادہ ہوجائے گی جس کے نتیجے میں شرح تبادلہ مستحکم ہوگا،انہوں نے ڈالر کے اخراج کو کم کرنے کے لیے درآمدی پابندیوں کی اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرجری سے کوئی بھی خوش نہیں ہوتا، لیکن بعض اوقات یہ ضروری ہوتی ہے۔
انکاکہنا تھا ملک کے دیوالیہ ہونے کے خدشات ختم ہوچکے ہیں، ہم اپنی درآمدات کو معتدل کرنے اور برآمدات کم نہ ہونے دینے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم 2 سے 3 ماہ تک یہ پالیسی جاری رکھیں گے،جلد ہی پالیسی پلان بنایا جائے گا، جس کے تحت درآمدات میں بتدریج کمی آئے گی اور برآمدات میں 3 ماہ کے اندر مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر اضافہ ہوگا۔
خیال رہے کہ اپریل کے دوسرے ہفتے کے آغاز میں اسلام آباد میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے ڈالر کی قیمت میں 28 فیصد یا 51 روپے سے زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے۔7 اپریل (جب اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار سے سبکدوش کیا گیا تھا) اور 22 جولائی کے درمیانی عرصے میں ملک کے تجارتی خسارے، بڑھتے ہوئے سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال کے باعث روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 21.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے،22 جون کو 211 روپے 93 پیسے کی قیمت تک پہنچنے کے بعد جولائی کے پہلے ہفتے میں روپے کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا تھا اور اس کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں 204 روپے 56 پیسے تک آگئی تھی، جب 15 جولائی کو عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ پاکستان کا اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا لیکن اس کے بعد حالیہ دنوں میں اس کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کاروبار کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 8.25 فیصد کمی دیکھی گئی، 22 جولائی کو روپیہ 228 روپے 36 پیسے کے ساتھ کم ترین سطح پر بند ہوا جبکہ 15 جولائی کو ڈالر کے مقابلے میں اس کا ریٹ 210 روپے 95 پیسے تھا، رواں ہفتے کے ابتدائی سیشن میں بھی روپے کی قدر میں مزید کمی دیکھی گئی جس کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے میں یہ 229 روپے 88 پیسے پر آگیا تھا۔
