آئی ایم ایف کا تجویز کردہ منی بجٹ تیار
حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مطابق منی بجٹ کو حتمی شکل دیدی ہے جس میں 6 کھرب روپے کی مالی ایڈجسٹمنٹس کی گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام وفاقی حکومت کی جانب سے 5 ماہ قبل مالی سال 2022 کے لیے پیش کیے گئے ’ترقیاتی بجٹ‘ کے اثرات کو واپس پلٹانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
منی بجٹ کو آئندہ سال جنوری میں آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر حاصل کرنے میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے ، حکومت نے اس سلسلے میں سیکریٹری خزنہ کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے ، ان کی جگہ حامد یعقوب شیخ کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
مالی ایڈجسٹمنٹس میں حکومت نے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت اخراجات میں 2 کھرب روپے کی کمی اور حکومت کے عمومی اخراجات میں 50 ارب روپے کی کمی کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب ٹیکس استثنیٰ واپس لینے سے حکومت کو تقریباً 350 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ آئی ایم ایف پاکستانی حکومت سے 7 ارب روپے کے ٹیکس لگوانے کا خواہاں ہے تاہم رواں مالی سال کے معاہدے میں 350 ارب روپے کا ٹیکس استثنیٰ ختم کیا جائے گا۔
آئی ایم ایف نے ٹیکس کیلئے تنخواہوں کے سلیبز پر نظرِ ثانی کر کے اسے بھی بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم فی الوقت اس تجویز کو ایک طرف کردیا گیا ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا کہ بل کو بغور جائزے کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ۔
یہ بھی پڑھیں:امیتابھ بچن نے کرینہ کپور کے پاؤں کیوں دھوئے؟
حکومت نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں قیمتوں کی شرح کو مارکیٹ کی سطح کے 90 فیصد تک بڑھا دیا ۔ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں لین دین پر ٹیکس کی وصولی بڑھائی جائے گی ۔ بجٹ 2022 میں حکومت نے مقامی مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کےفروغ کے لیے ڈیوٹی کم کردی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت تجارت ریگولیٹری ڈیوٹیز کے نفاذ اور کیش مارجن کی مخالفت کر رہی ہے کہ اس سے معیشت سست ہوجائے گی۔
