گورنر پنجاب چوہدری سرور کی فراغت کی تیاریاں شروع

باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے گورنر شپ سے استعفیٰ دینے کا پیغام ملنے کے بعد دورہ برطانیہ کا پروگرام بنایا تا کہ وہ ہٹائے جانے سے پہلے اپنے موقف کے حق میں رائے عامہ ہموار کر سکیں۔ لندن میں مقیم ایک سینئر صحافی کے مطابق چوہدری محمد سرور نے برطانیہ میں اپنے قریبی دوستوں کے سامنے ایک نجی محفل میں انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ان سے تین ماہ پہلے ایک ملاقات میں واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ اگر وہ خوش نہیں ہیں تو استعفی دے سکتے ہیں۔ عمران نے انہیں یہ مشورہ تب دیا جب چودہری سرور نے بزدار حکومت کی پرفارمنس پر شدید تنقید کی۔ لیکن اس مشورے کے جواب میں سرور نے وزیر اعظم عمران خان کو بتایا تھا کہ وہ ابھی گورنر شپ سے استعفیٰ دینے یا پھر تحریک انصاف چھوڑنے کا نہیں سوچ رہے۔
چوہدری سرور نے وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا تذکرہ پاکستان میں قریبی دوستوں کے ساتھ بھی کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ گورنر چھوڑنے کا ذہن بنا چکے ہیں۔ تاہم مشورے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ وہ کچھ وقت اور لیں اور اپنے موقف کے بارے میں رائے عامہ ہموار کریں تاکہ یہ تاثر نہ جائے کہ انہیں نکالا گیا ہے بلکہ اس تاثر کو مضبوط کیا جائے کہ انہوں نے خود یہ عہدہ چھوڑا ہے۔ چنانچہ اب اس مقصد کے حصول کے لیے چوہدری محمد سرور برطانیہ میں ہیں اور تین برس گورنر شپ کے مزے لوٹنے کے بعد یہ گلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ وزیر اعظم نے دراصل انہیں گورنر بنا کر سائیڈ لائن کر رکھا ہے۔ برطانیہ میں مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے سرور نے حکومت کی تین برس کی ناکام کارکردگی کا اعتراف کیا ہے اور یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کے عوض پاکستان کو گروی رکھ دیا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لندن میں ایک سینئیر صحافی کے گھر 10 افراد کے روبرو چوہدری سرور نے یہ تک کہہ دیا کہ مسلم لیگ ق، جہانگیر ترین اور پیپلزپارٹی کسی بھی وقت حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لا سکتے ہیں۔
دوسری طرف حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور کی جانب سے حکومت پر کھلی تنقید وزیراعظم عمران خان تک پہنچ چکی ہے جس پر وہ سخت برہم ہیں، اس امکان کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ صدر عارف علوی سرور کی وطن واپسی سے پہلے ہی انہیں ڈی نوٹیفائی کر کے نئے گورنر کی نامزدگی کر دیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تین ماہ پہلے جب آخری مرتبہ چوہدری سرور کو فارغ کرنے کے بارے میں سوچا گیا تھا تو ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا نام تجویز کیا گیا تھا۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اب عاصم باجوہ کو گورنر پنجاب بنائے جانے کے امکانات کافی کم ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کے خلاف بیرون ملک اربوں کی جائیداد بنانے کا سکینڈل ہے۔ کہا جاتا ہے باجوہ کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور چیئرمین سی پیک کے عہدوں سے اسی سکینڈل کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا کیونکہ وہ اپنی جائیداد کی رسیدیں پیش کرنے میں ناکام رہے تھے۔
یاد رہے کہ اس وقت چوہدری پرویز الہی قائم مقام گورنر پنجاب کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر چوہدری سرور وطن واپسی سے پہلے فارغ نہ کر دئیے گئے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ پاکستان پہنچتے ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ اس وقت سرور اپنے اگلے سیاسی لائحہ عمل کا فیصلہ کر رہے ہیں، انہیں یہ طے کرنا ہے کہ کہ اگر گورنر شپ سے فارغ ہوکر انہوں نے تحریک انصاف بھی چھوڑ دینی ہے تو پھر کیا اپنی کوئی جماعت بنانا ہو گی یا جہانگیر ترین گروپ کا حصہ بننا ہو گا۔ خیال رہے کہ جہانگیر ترین اور چودھری سرور کے مابین ان بھی دوستانہ تعلقات ہیں۔
گورنر پنجاب کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے لندن میں جس موقف کا اظہار کیا ہے وہ نیا نہیں اور وہ پاکستان میں بھی لمبے عرصے سے اسی طرح کی گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے یاد دلایا رواں سال اگست میں بھی گورنر پنجاب نے کہا تھا کہ میں گورنر ہاؤس میں بیٹھنے کے لیے پاکستان نہیں آیا تھا، میں پاکستان اور اس کے عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا لیکن میرے ہاتھ باندھ دیے گئے، لہذا اب میں آئندہ انتخابات میں حصہ لوں گا۔ کچھ عرصہ پہلے یہ بھی سننے میں آیا تھا کہ چوہدری سرور کسی سیاسی اتحاد کا حصہ بن جائیں گے۔ اسی دوران ان کی پیپلز پارٹی اور نواز لیگ سے رابطوں کی خبریں بھی سامنے آئیں لیکن ان کا ظاہری موقف یہی رہا کہ وہ اپنی جماعت کے ساتھ ہیں۔
چودھری سرور کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ وہ دراصل خود کو وزیراعلیٰ پنجاب یا وزیر داخلہ کی سیٹ پر دیکھتے تھے، تاہم گورنر کے عہدے نے ان کو پارٹی کی جانب سے مایوس کیا۔ عمران خان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل چوہدری سرور اسٹیبلشمنٹ کی سفارش پر پنجاب کے گورنر بنائے گئے تھے اور ان کے اگلے سیاسی لائحہ عمل کا فیصلہ بھی اسٹیبلشمینٹ ہی کرے گی۔ اس لیے اگر سرور گورنر شپ سے مستعفی ہوتے ہیں یا نہیں فارغ کیا جاتا ہے تو اس کا ایک مطلب یقینی ہے کہ عمران خان کے اپنے گھر جانے کے دن بھی قریب آرہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کپتان حکومت نے سٹاک مارکیٹ کا بھی جنازہ نکال دیا
یاد رہے کہ چوہدری سرور مسلم لیگ (ن) کے دور میں بھی گورنر پنجاب کے عہدے پر تعینات تھے تاہم انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے طرز حکومت سے اختلاف کرتے ہوئے باقاعدہ چارج شیٹ کر کے گورنر شپ کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا اور اس کے کچھ ماہ بعد پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ لیکن اب ایسامحسوس۔ہوتا ہے کہ تاریخ خود کو دہرانے جا رہی ہے۔
