پاکستان آئی ایم ایف نامی سنڈی سے کیسے سہم گیا؟


سینئر صحافی حسن نثار نے کہا ہے کہ 22 کروڑ انسانوں کا ملک پاکستان آج آئی ایم ایف نامی ایک سنڈی کے سامنے دم سادھے، سہما اور سکڑا پڑا ہے لیکن اس صورتحال میں بھی فیصلہ سازی یہ سمجھنے اور سوچنے سے قاصر ہیں کہ انہیں اپنی سوچ اور اپروچ میں بنیادی ترین تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ حسن نثسر کہتے ہیں کہ آج کا پاکستان دیکھ کر تاتاریوں کے حملے سے پہلے کا بغداد یاد آتا ہے جس کے دجلہ کا پانی کبھی خون سے سرخ اور کبھی راکھ سے سیاہ ہوا تھا۔ راوی تو شکر ہے پہلے ہی سوکھ چکا اس لئے اس کے پانیوں کی سرخی اور سیاہی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن یہ بات طے کہ اگر مذید وقت یونہی برباد کیا گیا تو زوال اور انحطاط کا موجودہ سفر ریورس کرنا بھی ممکن نہیں ہو گا۔
اپنی تازہ تحریر میں حسن نثار کہتے ہیں کہ برسوں پہلے منو بھائی نے اپنی ایک انتہائی خوبصورت پنجابی نظم میں کہا تھا کہ اس معاشرے میں میٹھے سے مٹھاس اور کھٹے سے کھٹاس رخصت ہو چکی ہے اور ’’سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں ہے ‘‘ والی صورتحال ہے۔ آج بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں۔ پاکستان کا موجودہ نظام کسی زخمی، نڈھال، کانپتی، لرزتی ڈاچی کی مانند ہے جو قدم کہیں رکھتی ہے اور پڑتا کہیں ہے ۔ خدا جانے کب کون سا تنکا اس اونٹنی کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہو۔
’’نے باگ ہاتھ میں ہے نہ پا ہے رکاب میں‘‘۔ کسی پہاڑی سلسلہ کی ڈھلان پر چلتی گاڑی کی بریکیں فیل ہو جائیں تو گاڑی اور سواریوں کے انجام بارے اندازہ لگانے کیلئے جینئس ہونا ضروری نہیں، کامن سینس ہی کافی ہے۔
حسن نثار۔کہتے ہیں اگر میں یہ کہوں کہ اس معاشرہ میں ہر باڑھ اپنے اپنے کھیت کو کھا رہی ہے اور ہر چوکیدار اپنے ہی گھر میں نقب لگا چکا ہے یا لگا رہا ہے تو کیا یہ غلط ہو گا؟ ہم لوگ کر کیا رہے ہیں؟ کیا کسی کے قول اور فعل میں کوئی اثر تاثیر باقی رہ گئی ہے؟ کس کی ساکھ اور کریڈیبلیٹی میں بدبو دار چھید نہیں ہیں؟ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنی مسجدوں میں کشمیر تا فلسطین کی آزادی اور ملک کی مضبوطی اور خوشحالی کی دعائیں سن رہا ہوں جنہیں شرف قبولیت تو کیا عطا ہونا تھا، صورتحال بد سے بدتر اور بدترین ہوتی جا رہی ہے۔ انکے بقول یہ کہنا بہت آسان ہے کہ آپ مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ اسکا جواب یہ ہے کہ مرے حضور! جھوٹ پھیلانے سے تو مایوسی پھیلانا بہرحال بہتر ہے۔
حسن نثار کہتے ہیں کہ یہاں جسے دیکھو ٹھنڈے دودھ کو پھونکیں مار مار کر ہلکان ہو رہا ہے لیکن حاصل وصول صفر بھی نہیں کیونکہ صفر کی بھی اہمیت ہوتی ہے۔ وعظ، بھاشن، ہدایات و فرمودات، تجزیوں، تبصروں، اور تبلیغ کا سیلاب ہے لیکن خستگی اور سڑاند کا گراف بلند سے بلند تر۔نہ نگہہ بلند، نہ سخن دلنواز نہ جاں پر سوز کیونکہ اقبال کے مزار پر پھولوں کی چادریں چڑھانا اور سلامیاں دینا کافی ہوتا تو اب تک کچھ نہ کچھ تو ہوا ہوتا ۔ہمارے سیاست دان، صحافی، دانشور، علماء فضلا، وکلاء سبھی لیڈرز اور کریم آف دی سوسائٹی ہیں تو واقعی ہیں یا ہم ایک ہی وقت میں مختلف سرابوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔میں ہر روز کالموں کا ’’کوہ گراں‘‘ سر کرتا ہوں جن میں سے کچھ قابل ذکر بھی ہوتے ہیں لیکن نتیجہ؟ اسی طرح سیاست دانوں کی تقریروں اور بیانوں کو دیکھ لیں وہی جگتیں، جملے بازیاں، پوائنٹ سکورنگ، بلیم گیم، اپنے اپنے لیڈروں کی چاپلوسی، چمچہ گیری، اینگلنگ، جھوٹ، کھوکھلا پن، سطحیت اور روحانی رہنمائوں نے تو دنیا ہی الٹ دی ہے۔
حسن نثار کہتے ہیں کہ آج ایسے ایسے نان ایشور کو ایشوز بنا دیا گیا ہے جن کا حقیقی پیغام سے دور پار کا بھی کوئی رشتہ نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ’’ یہ بند کردو، وہ بند کر دو ‘‘ …’’یہ پابندی لگا دو، وہ پابندی لگا دو، ’’یہ لازمی کر دو وہ لازمی قرار دے دو‘‘، حالانکہ دنیا کی تاریخ سے۔پتہ چل جاتا ہے کہ کن چیزوں کی موجودگی یا غیر موجودگی میں قومیں معزز اور مضبوط ہوتی ہیں اور کن چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں، لیکن بے رحم زمینی حقائق سے آنکھیں چراتے ہوئے منافقت پر مصر ہیں کہ جہالت کی منڈی میں یہی سکہ رائج الوقت ہے۔’’بند کرنا کھولنا‘‘، ’’لازمی نہ لازمی‘‘ قیادت نہیں مداری پن ہے ۔ اصل چیلنج کی طرف آتے نہیں کہ ان کے بس کی بات ہی نہیں ۔ اسلامی گورننس کے دو بنیادی اہداف ہوتے ہیں یعنی مسلمان معاشرہ میں طاقت اور دولت یوں منصفانہ انداز میں گردش کرے جیسے ایک صحت مند انسانی جسم میں خون سر تا پا منصفانہ طور پر گردش کرتا ہے ۔ یہ ہے وہ چیلنج، وہ حکمت عملی جو قیصروکسریٰ پر حاوی کرتی ہے ورنہ لباس کی کانٹ چھانٹ تو درزیوں کا کام ہے ۔ حلال و حرام کو بھی ایسا چکر دیا کہ اصل حرام وحلال کی تمیز ہی مٹ گئی ۔ساری زندگی ’’کیا کھاتا پیتا یا پہنتا ہے‘‘ تک سکڑ کر رہ گئی اور نتیجہ یہ کہ 22 کروڑ انسانوں کا ملک پاکستان آج IMF نامی ایک سنڈی کے سامنے دم سادھے سہما سکڑا پڑا ہے
یہ بھی پڑھیں:سی این جی کی بندش سے 4 لاکھ لوگ بیروزگار ہونے والے ہیں

اور اس صورتحال میں بھی فیصلہ ساز یہ سمجھنے سوچنے سے قاصر ہیں کہ سوچ اعر اپروچ میں بنیادی ترین تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔ آج کا پاکستان دیخھ کر تاتاریوں کے حملے سے پہلے کا بغداد یاد آتا ہے جس کے دجلہ کا پانی کبھی خون سے سرخ اور کبھی راکھ سے سیاہ ہوا ۔ راوی تو شکر ہے پہلے ہی سوکھ چکا اس لئے اس کے پانیوں کی سرخی اور سیاہی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن یہ بات طے کہ اگر مزید وقت یونہی برباد کیا گیا تو زوال و انحطاط کا یہ سفر ریورس کرنا بھی ممکن نہ ہو گا۔

Back to top button