آرمی ایکٹ ترمیمی بل 3 جنوری کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے تین جنوری کو وفاقی کابینہ سے منظور شدہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت آرمی ایکٹ میں ترامیم کا بل 3جنوری کو ہی دونوں ایوانوں سے منظور کرا لے گی۔ صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کا ترمیمی ایکٹ جمعہ سے پہلے قومی اسمبلی میں پیش اور منظور ہو گا۔ انہوں نے کہا جمعہ کے بعد سینیٹ اجلاس میں بل پیش کیا جائے گا اور اسی روز ہی منظور کر لیا جائے گا۔
تحریک انصاف کے رہنما ملک عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کا ایکٹ کل دونوں ایوانوں سے منظور کرانے کی تیاری کررہے ہیں اور اس حوالے سے حکومتی مذاکراتی ٹیم تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کر رہی ہے۔
خیال کیا جارہا ہے کہ حکومت یہ بل قومی اسمبلی سے باآسانی منظور کرانے میں کامیاب ہوجائے گی کیوں کہ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق آرمی ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی قیادت کا مؤقف ہے کہ وہ آرمی چیف کے عہدے کو متنازع نہیں بنانا چاہتی اس لیے وہ آرمی ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کریں گے۔ مسلم لیگ ن ایکٹ کی غیر مشروط حمایت کرے گی۔ حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت پر قانون سازی کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے حمایت مانگی تھی جو اسے حاصل ہوچکی ہے۔
خیال رہےکہ گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی گئی تھی۔ وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 کی منظوری دی جس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت اور توسیع کا طریقہ کار وضع کیاگیا ہے۔
آرمی ایکٹ ترمیمی بل میں ایک نئے چیپٹرکا اضافہ کیا گیا ہے، اس نئے چیپٹر کو آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتی کا نام دیا گیا ہے۔ اس بل میں آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت تین سال مقررکی گئی ہے جب کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت پوری ہونے پر انہیں تین سال کی توسیع دی جا سکے گی۔ ترمیمی بل کے مطابق وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی مفاد اور ہنگامی صورتحال کا تعین کیا جائے گا، آرمی چیف کی نئی تعیناتی یا توسیع وزیراعظم کی مشاورت پر صدر کریں گے۔ ترمیمی بل کے تحت آرمی چیف کی تعیناتی، دوبارہ تعیناتی یا توسیع عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکے گی اور نہ ہی ریٹائر ہونے کی عمر کا اطلاق آرمی چیف پر ہوگا۔ علاوہ ازیں ترمیمی بل کے مطابق پاک فوج، ائیر فورس یا نیوی سے تین سال کے لیے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا تعین کیا جائے گا جن کی تعیناتی وزیراعظم کی مشاورت پر صدر کریں گے۔ ترمیمی بل کے مطابق اگر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی پاک فوج سے ہوا تو بھی اسی قانون کا اطلاق ہو گا، ساتھ ہی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو بھی تین سال کی توسیع دی جاسکے گی۔
خیال رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت 28 نومبر 2019 کی رات 12 بجے مکمل ہورہی تھی اور وفاقی حکومت نے 19 اگست کو جاری نوٹیفکیشن کے ذریعے انہیں3 سال کی نئی مدت کے لیے آرمی چیف مقرر کردیا تھا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ سال 28 نومبر 2019 کو آرمی چیف کی مدت ملازمت کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اس حوالے سے قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا۔
