اٹارنی جنرل کی تنازع حل ہونے تک جزائر پر کوئی ترقیاتی کام نہ کرنے کی یقین دہانی

اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید نے سندھ کے جزیروں کا انتظام وفاق کے حوالے کرنے کے خلاف درخواستوں کی سماعت پر ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جب تک جزائر کا تنازع حل نہیں ہوتا ان پر کوئی ترقیاتی کام شروع نہیں ہوگا۔
سندھ ہائی کورٹ میں سندھ کے جزیروں کا انتظام وفاق کے حوالے کرنے کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید عدالت میں پیش ہوئے اور یقین دہانی کرائی کہ جب تک جزائر کا تنازع حل نہیں ہوتا ان پر کوئی ترقیاتی کام شروع نہیں ہوگا، ماہی گیروں اور مینگروز کو بھی کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں جزائر سندھ کی عوام کی ملکیت ہیں آرڈیننس آخری فیصلہ نہیں ہے، اس میں ترمیم بھی ہو سکتی ہے، وفاقی حکومت صوبے سے مشاورت سے ہی ترقیاتی کام شروع کرے گی، یہ مسئلہ درخواستوں کے فیصلے سے حل نہیں ہوگا۔
اس موقع پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، درخواست گزاروں کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی بھی ایسا تعمیراتی یا ترقیاتی کام جو مینگروز کے درخت کو نقصان پہنچائے یہ غیر قانونی ہے، مینگروز کٹنے سے کراچی میں ہیٹ ویو مزید بڑھے گی مینگروز ختم ہونے سے سونامی کا بھی خطرہ ہے اگر جزائر پر کام ہوا تو مینگروز درخت کاٹے جائیں گے۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید دلائل طلب کرتے ہوئے درخواستوں کی سماعت 13 نومبر تک ملتوی کردی۔
