اپنے جج لگانے کی کوشش پر جسٹس فائز عیسیٰ کا اعتراض

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے ان کی غیر موجودگی میں اچانک ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کونسل آف پاکستان کا اجلاس بلانے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ملتوی کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ تاہم چیف جسٹس عمر عطا بندیال اجلاس ملتوی کرنے کے موڈ میں نہیں اور ہر صورت لاہور اور سندھ ہائی کورٹ کے نئے جج تعینات کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد اب جوڈیشل کونسل میں جسٹس بندیال گروپ اقلیت میں ہے اور جسٹس فائز عیسیٰ گروپ اکثریت میں ہے لیکن چونکہ فائز عیسیٰ سپین میں ہیں لہٰذا جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلایا جائے تو عمر عطا بندیال اپنی مرضی کے جج تعینات کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال گروپ کو پرو اسٹیبلشمنٹ جبکہ جسٹس فائز عیسٰی کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ گروپ سمجھا جاتا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لاہور اور سندھ ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے حوالے سے بلائے گئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ملتوی کرنے یا سپین سے ویڈیو لنک میں شریک ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
چیئرمین جوڈیشل کمیشن یعنی چیف جسٹس آف پاکستان اور جوڈیشل کمیشن کے ممبر ججز کو لکھے گئے خط میں انہوں نے چھٹیوں میں بلائے گئے اجلاسوں پر 19 اعتراضات اٹھائے ہیں۔ خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ 28 اور 29 جون کو سندھ ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی اور لاہور ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز کی کنفرمیشن کے لیے جو اجلاس بلائے گئے ہیں ان کی اطلاع نہیں ابھی تک نہیں دی گئی حالانکہ وہ سینئر ترین جج ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں لکھا کہ ان کے پرائیویٹ سیکریٹری نے رجسٹرار سپریم کورٹ جواد پال کے خط اور ان کے ساتھ تین باکسز کی تصاویر انہیں بھیجی ہیں جن میں شاید امیدوار ججز کے کوائف ہوں گے۔ اپنے خط میں انہوں نے لکھا کہ مجھے اس طرح سے اجلاس بلائے جانے پر اعتراض ہے اور وہ بار بار کمیشن کے سیکریٹری کے اس رویے کے حوالے سے احتجاج کر کر کے تھک چکے ہیں۔اجلاس پر اعتراض اٹھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ سپریم کورٹ کی گرمیوں کی چھٹیوں میں کیوں بلایا گیا۔ اس کے لیے چھٹیاں ختم ہونے کا انتظار کیا جا سکتا تھا۔ان کے مطابق لاہور اور سندھ ہائی کورٹ بھی چھٹیوں پر ہیں اور معمول کا کام وہاں بھی رکا ہوا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےاپنے خط میں لکھا کہ 20 آسامیاں ایک دم خالی نہیں ہوئیں بلکہ اس سے قبل سالوں سے خالی ہیں۔ ان کی بھرتی کی فوری ضرورت کیوں پڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے 13 ایڈیشنل ججوں کو ہال ہی میں چھ ماہ کی توسیع دی گئی تھی تو پھر ان کے کیسز کو دوبارہ زیر غور لانے کی جلدی کیا تھی؟ خط کے آخر میں انہوں نے کہا ہے کہ ’ان اجلاسوں کو چھٹیوں کے خاتمے تک ملتوی کیا جائے تاکہ باکسز میں موجود مواد کو تمام ججز زیر غور لا سکیں۔ تاہم اگر اجلاس بلانا ہی ازحد ضروری ہے تو پھر ویڈیو لنک پر سپین سے انہیں بھی اجلاس میں شامل کیا جائے تاکہ وہ اس ’غیر قانونی اجلاس‘ پر بطور سینئر جج اپنے اعتراضات بیان کر سکیں۔‘
اس سے قبل بھی گزشتہ ہفتے چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریٹائرڈ ججز کو گاڑیاں فراہم کرنے کی تجویز کو نامناسب اور باعث شرم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس کا مطلب ہو گا کہ جج اپنے عہدے کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو ججوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط میں فل کورٹ کے ذریعے ریٹائرڈ ججز کو مراعات دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخری فل کورٹ اجلاس 12 دسمبر 2019 کو ہوا۔ انصاف کی فراہمی کو متاثر کرنے والے کئی اہم معاملات 2019 سے توجہ طلب ہیں لیکن اس حوالے سے دوبارہ کوئی اجلاس نہیں بلایا گیا۔
