ٹیسٹ ایمپائر اسد رؤف نے لنڈے کی دکان کیوں کھولی؟


انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سابق ایلیٹ ایمپائر اسد رئوف کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ انہوں نے غربت سے تنگ آ کر پرانی چیزیں بیچنے کا کاروبار شروع کر لیا ہے۔ لیکن اب انہوں نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ وہ اس کاروبار سے تب سے وابستہ ہیں جب وہ ٹیسٹ میچوں میں ایمپائرنگ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اسد رؤف نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ میری کہانی کچھ ایسے بیان کی جا رہی ہے کہ خدا نخواستہ میں بہت بُرے حالات میں ہوں اور غربت کی وجہ سے لنڈا بازار میں کام کرتا ہوں۔ سابق ٹیسٹ ایمپائر نے بتایا کہ میں تو پرانی ایلیٹ چیزوں کا کام تب بھی کرتا تھا جب میں ایلیٹ امپائر تھا، انکا کہنا تھا کہ ایمپائرنگ ہوائی روزی ہے، آج ہے تو کل نہیں لہٰذا میں نے سیکنڈ ہینڈ چیزیں بیچنے کا کام تب ہی شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پرانے جوتے، کپڑے، بیگز اور کراکری کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس موجود کراکری میں ایسے برتن بھی شامل ہیں جو شاہی خاندان کے استعمال میں رہے ہیں۔
اسد رئوف کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ میں جو چیزیں منگواتا ہوں انہیں ویسے ہی بیچنا شروع کر دیتا ہوں، میرا ایک وئیر ہاؤس ہے، وہاں تمام چیزیں پراسیس ہوتی ہیں جس کے بعد یہاں سٹور کی زینت بنتی ہیں اور پھر لوگ دور دور سے انہیں خریدنے آتے ہیں۔

سابق ٹیسٹ ایمپائر نے بتایا کہ امپورٹڈ چیزوں کو خریدنے کی سکت ہر کسی میں نہیں ہوتی اور ویسے بھی امپورٹڈ چیزوں کے ایک نمبر ایک اور نمبر دو ہونے کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس اعلیٰ برینڈز کی چیزیں اچھی حالت میں دستیاب ہوتی ہیں۔
اسد رئوف کے مطابق میں سیکنڈ ہینڈ چیزوں کا کاروبار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا، مجھے فخر ہے کہ میں ایسا کاروبار کر رہا ہوں جو میرے خاندان میں کسی نے نہیں کیا اور نہ ہی کرنے کا سوچا ہے، انکا کہنا تھا کہ میں اپنے کاروبار سے بہت مطمئن ہوں، اس میں زیادہ سرمایہ کاری کی بھی ضرورت نہیں ہے جبکہ منافع کا مارجن بھی بہت زیادہ ہے۔
سابق ٹیسٹ امپائر نے بتایا کہ میں نے 57 برس کی عمر تک امپائرنگ کی، پھر مجھے اس سے الگ ہونا پڑا، انہوں نے بتایا کہ میرا بیٹا بیمار ہے، میرے اپنے بھی فٹنس مسائل شروع ہو گئے تھے، میری سننے کی صلاحیت بھی کم ہو رہی تھی لہذا میں نے خود ہی ایمپائرنگ سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسد رئوف نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹرز کی فلاح کے لیے پاکستان میں بہت کچھ ہو رہا ہے جو کہ اچھی بات ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیسٹ ایمپائرز کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے اور ان کی ویلفیئر کا کام بھی کرنا چاہئے۔

Back to top button