مہنگاپٹرول: کیا اب سڑکوں پر سکوٹی کا راج ہوگا؟


پاکستان میں پٹرول کی ظالمانہ حد تک بڑھتی ہوئی قیمت نے عوام کو گاڑیوں کی بجائے سستی سواریاں اپنانے پر مجبور کر دیا ہے ایسے میں سکوٹی نوجونواں خاص طور پر لڑکیوں میں دن بدن مقبول ہو رہی ہے اور انکی بڑی تعداد الیکٹرک یا پیٹرول سے چلنے والی سکوٹی کے ذریعے معمولات زندگی کو آگے بڑھا رہی ہے۔

پیٹرول کی قیمت اب فی لیٹر ، ڈھائی سو کے ہندسے کو چھونے کو ہے، جس سے روزانہ کی بنیاد پر دفاتر، کاروبار یا تعلیم کے حصول کے لیے گھر سے نکلنے والے افراد یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ گاڑی کا پیٹرول پورا کریں یا باقی اخراجات۔

ایسے میں چار پہیوں اور بڑے انجن والی گاڑی کا متبادل ایک دو پہیوں اور بہت کم طاقت والے انجن کے سکوٹی ہی ہو سکتی ہے جو اگر پیٹرول پر چلے تو بچت کا باعث اور اگر الیکٹرک چارج پر تو بچت کے ساتھ ماحول کے لیے بھی سازگار ثابت ہو سکے گی، پیٹرول یا الیکٹرک سکوٹر دونوں ہی ارزاں مسافت کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔
راولپنڈی میں سکوٹیز میں ڈیل کرنے والے علی گوہر نے بتایا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ہر چیز کی قیمت بڑھی ہے، ایک الیکٹرک بائیک کی قیمت پہلے ایک لاکھ 10 ہزار روپے تھی، اب یہ ایک لاکھ 20 ہزار روپے ہے، اسی طرح الیکٹرک سکوٹی کی قیمت ایک لاکھ 25 ہزار روپے سے ایک لاکھ 80 ہزار روپے ہوگئی ہے۔

علی گوہر کے مطابق ان کے پاس آنے والی 80 فیصد کلائنٹس خواتین ہیں، جو الیکٹرک اور پیٹرول دونوں اقسام کی سکوٹی خریدتی ہیں تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ سکوٹیز صرف خواتین ہی خریدتی ہیں کیونکہ مردوں کی بڑی تعداد بھی ان کو خریدنے آتی ہے، بھارت اور پاکستان میں یہ تصور بن گیا ہے کہ صرف خواتین ہی سکوٹیز استعمال کرتی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ما حولیات کے مطابق 2030 تک بیٹری سے چلنے والی 90 فیصد الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر منتقل ہونے سے 2050 تک کاربن کے اخراج میں 11 ارب ٹن کی ڈرامائی کمی آئے گی،کیونکہ الیکٹرک سکوٹی کا ماحول پر آلودگی والا اثر نہیں ہوتا جبکہ پیٹرول اور فاسل فیول کا برا اثر پڑتا ہے۔

ایک الیکٹرک بائیک کو آپ چار سے پانچ گھنٹے میں چارج کر سکتے ہیں، اس کے بعد آپ اسے 65 سے 75 کلومیٹر چلا سکتے ہیں، یہ بجلی کا 1.5 یونٹ لیتی ہے، اسلام آباد کی صحافی مہوش فخر 2016 سے سکوٹی چلا رہی ہیں، بچپن میں سائیکل چلانے سے انہیں سکوٹی چلانے میں بہت مدد ملی ان کے مطابق شروع میں لوگ بہت دیکھتے تھے اور بائیک والے مرد پیچھا بھی کرتے تھے مگر جینز پہننے اور ہیلمٹ پہننے سے مدد ملی کیوں کہ لوگ یہ نہیں پہچان پاتے کہ مرد بائیک چلا رہا ہے یا کوئی خاتون۔

انہوں نے بتایا کہ اکثر خواتین اور بڑی عمر کے مرد ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے، مجھے تب بہت اچھا لگتا تھا جب لوگ مجھے آکر پوچھتے تھے کہ آپ نے سکوٹی کہاں سے خریدی اور وہ اپنی بیٹی کے لیے کہاں سے لے سکتے ہیں خاتون رائیڈر نے بتایا کہ مجھے گاڑی کی نسبت سکوٹی بہتر لگتی ہے کیونکہ فیول کی مد میں میرا خرچہ 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ سے اب چار ہزار روپے ماہانہ تک آگیا ہے۔

Back to top button