اپنے گاؤں میں ریڈ کارپٹ استقبال ایئر چیف کے گلے پڑ گیا


پاکستانی ایئر چیف ظہیر احمد بابر کی سرکاری ہیلی کاپٹر پر گجرات میں اپنے گاؤں کے پرائیویٹ دورے اور سرکاری وسائل کے استعمال کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد موصوف سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی زد میں ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل متعدد ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موجودہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کا ہیلی کاپٹر ایک دیہاتی علاقے میں لینڈ کرتا ہے جسکے بعد تین کالی لینڈ کروزر گاڑیاں بھی موقع پر پہنچ جاتی ہیں۔ پھر ہیلی کاپٹر سے لیکر گاڑیوں تک ائیر چیف کے استقبال کے لیے سرخ قالین بچھایا جا رہا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر ہیلی کاپٹر کے ذریعے رواں ہفتے ضلع گجرات کی تحصیل کھاریاں کی حدود میں سدھو نامی گاؤں میں اترے تھا جو ان کا آبائی علاقہ ہے۔ ان کے دورے کا مقصد اپنے والد کی قبر پر حاضری دینا تھا لیکن سوشل میڈیا پر یہ بات زیر بحث ہے کہ انہیں ایسا کرنے کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا خیال کیوں کر آیا۔ یاد رہے کہ ظہیر احمد بابر مارچ 2021 میں نئے ایئر چیف مقرر ہوئے تھے جس کے بعد یہ ان کا اپنے علاقے کا پہلا دورہ تھا۔ وائرل ویڈیوز میں سے ایک ویڈیو انتہائی مختصر ہے جس میں ظہیر احمد بابر اپنے ایک اہلکار سے کچھ کہتے ہوئے ویڈیو بنانے والے شخص کی جانب اشارہ کرتے ہیں جس کے بعد وہ اہلکار ویڈیو بنانے والے سے ویڈیو بند کرنے کا کہتے ہیں۔ ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر مسلسل شیئر کیا جا رہا ہے اور جہاں اکثر افراد ایئر چیف مارشل کی جانب سے بے جا پروٹوکول لینے اور ریڈ کارپٹ استقبال کروانے پر تنقید کرتے دکھائی دے رہے ہیں، وہیں کچھ ان کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
ان میں سے ایک ویڈیو میں ہیلی کاپٹر لینڈ ہو چکا ہے جبکہ باہر موجود چند افراد جن میں ایئرفورس کے اہلکار بھی دکھائی دیتے ہیں ریڈ کارپٹ کو ٹھیک کرنے میں مگن ہیں۔ دوسری ویڈیو میں ایئر چیف ہیلی کاپٹر سے باہر نکلتے ہیں اور ریڈ کارپٹ پر چلتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہیں۔ تیسری ویڈیو میں وہ ایک قبرستان پہنچے ہیں اور یہاں بھی ان کا ریڈ کارپٹ استقبال ہور ہا ہے۔ پھر وہ اپنے بزرگوں کی قبر پر حاضری دیتے ہیں اور واپسی کے دوران تمام پروٹوکول دوبارہ دہرایا جاتا ہے۔
پاکستان میں اکثر اوقات سیاستدانوں کو ہی پروٹوکول لے کر مختلف دورے کرتا دکھایا جاتا ہے۔ اس دوارن ٹی وی چینلز پر گاڑیوں کی قطاروں کو باقاعدہ گنتی کر کے دکھایا جاتا ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان نے 2018 کے انتخابات سے قبل پروٹوکول کلچر کے خاتمے کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا تھا۔ اس ضمن میں ان کی جانب سے حزبِ مخالف کی جماعتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا۔ تاہم ان کے دورِ حکومت کے آغاز میں ہی پروٹوکول سے متعلق تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب وزیرِ اعظم نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد کے علاقے بنی گالا میں اپنی رہائش گاہ سے وزیرِ اعظم ہاؤس جانا شروع کیا۔ اس وقت کے وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ہیلی کاپٹر پر آمدورفت کا دفاع کرتے ہوئے یہ مشہور بیان دیا تھا۔ ‘ہیلی کاپٹر کا خرچ 50 سے 55 روپے فی کلومیٹر ہے’، جسے بی بی سی کی جانب سے فیکٹ چیک کیا گیا تھا۔
ماہِ رمضان میں وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی گاڑی خود ڈرائیو کر کے ایک مقامی بازار کا دورہ کر رہے ہیں اور قیمتوں کے حوالے سے سوالات پوچھ رہے ہیں۔
ان ویڈیوز کو شیئر کرتے ہوئے اکثر افراد حالیہ بجٹ کا حوالے دیتے ہوئے نجی دورے کے لیے وسائل کے بے جا استعمال پر تنقید کر رہے ہیں۔ ویسے تو یہ ویڈیوز متعدد افراد کی جانب سے شیئر کی گئی ہے، اور اسے ویڈیو پلیٹ فارم سنیک ویڈیو پر بھی شائع کیا گیا ہے لیکن جب ٹوئٹر پر تجزیہ نگار اور مصنفہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اسے شیئر کیا تو انھوں نے لکھا کہ ‘کیا ہم زمیندار وڈیروں کو موردِ الزام ٹھہرا سکتے ہیں جب ہماری پروفیشنل سروس چیف خود ایک وڈیرا بن جائیں۔‘’ہم ان کی ہیلی کاپٹر فلائٹ، تین لینڈ کروزرز اور ریڈ کارپٹ پر لگائے گئے ٹیکس کے پیسوں کی کل مالیت کا اندازہ کیسے لگا سکیں گے؟’ انھیں جواب دیتے ہوئے جب ایک صارف احسن تنویر نے لکھا کہ کیا وہ اتنی دور اپنے گاؤں تک سفر کرنے کے لیے پیدل چل کر آتے، تو سعد عثمان نے جواب دیا کہ ‘یہ خاصی غیرمنطقی بات ہے، ایک مہذب معاشرے میں انھیں نجی دورے کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرنے پر عہدے سے دستبردار ہونا پڑتا اور ان کے خلاف کارروائی بھی کی جاتی۔’
ایک صارف چوہدری شہزاد احمد کا کہنا تھا کہ ‘ اس میں کیا غلط بات ہے، اگر وہ گجرات اور پھر اپنے گاؤں بذریعہ روڈ سفر کرتے تو سکیورٹی خدشات کے باعث یہ ممکن نہ ہو پاتا اور اس سے خزانے کو بھی بہت نقصان پہنچتا۔ جانبدار ہونا چھوڑ دیں.’
لیکن سوشل میڈیا پر ریڈ کارپٹ کے استعمال پر سب سے ذیادہ بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ ایک صارف محمد علی تالپور نے لکھا کہ ‘کیا ان لوگوں کو دھرتی ماں پر چلنے سے گھن آتی ہے؟ ریڈ کارپٹ سے آپ کے وقار میں کمی نہیں آتی، لیکن پھر جو افراد پروقار ہوتے ہیں وہ ریڈکارپٹس سے دور رہتے ہیں۔’
ایک صارف نے لکھا کہ ‘اگر یہ اپنی مقامی بس میں گاؤں پہنچتے، تو ہیرو کہلاتے۔’ پرویز اسماعیل نامی صارف نے لکھا کہ ’کیا یہ واقعی سروسز چیف ہیں، مجھے لگتا ہے کہ یہ گجرات کے ڈان ہیں۔
صارف راؤ امتیاز علی نے لکھا کہ ’سیاستدانوں پر تبرے کسنے والے ذرا ان اکیس بائیس سکیل والے سرکاری ملازموں کی شاہ خرچیاں دیکھیں‘۔

Back to top button