اپوزیشن اتحاد کا حکومت مخالف تحریک تیز کرنے کا اعلان

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ حکومت مخالف تحریک تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے گلگت بلتسان الیکشن کے نتائج اور جلسوں کے انعقاد پر حکومتی پابندی کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے.
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جلسوں پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلسے اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے ہم حکومتی پابندی کو تسلیم نہیں کرتے۔ سلیکٹڈ حکومت کو گھر بھجوانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے. یہ بات اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے کہی۔ ان کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنما بھی شریک تھے جب کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سردار اختر خان مینگل نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جلسوں پر پابندی کے فیصلے مسترد کرتے ہیں، ہمارے جلسے و جلوسوں کا انعقاد اپنے طے شدہ وقت اور دن کے مطابق کیا جائے گا، ہمیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی آڑ میں یہ پابندی قبول نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج کو مسترد کردیا جس میں سرکاری وسائل کو استعمال کیا گیا، سپریم کورٹ نے جو شفاف الیکشن کی ہدایات دی تھیں اس پر عمل نہیں کیا گیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم نے اپنی تحریک کے بنیادی اصول اور مقاصد وضح کرلیے ہیں، ہم سیاست سے اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ اداروں کے کردار کا خاتمہ چاہتے ہیں، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے پر سب پارٹیوں کا اتفاق رائے ہے، ہم مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
سربراہ پی ڈی ایم نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی، ہم حکومت سے کسی قسم کے مذکرات نہیں چاہتے کیوں کہ یہ عوام کی نمائندہ جماعت ہے ہی نہیں، تحریک کی رفتار کو تیز کیا جائے گا اور جلسے اپنے وقت کے مطابق ہوں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے گلگت بلتستان انتخابات کو مسترد کر دیا ہے۔ ہم پارلیمنٹ کی بالا دستی چاہتے ہیں۔ گلگت بلتستان الیکشن میں ریاستی مشینری کا استعمال کیا گیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم سلیکٹڈ حکومت کو گھر بھجوانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ جھوٹے مقدمات قائم کرکے انتقام لیا جا رہا ہے۔ ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی کا اعتراف حکومت کے خلاف ایف آئی آر ہے۔ شبر زیدی نے بدعنوان لوگوں کی فہرست پیش کی تو عمران خان نے کہا کہ چھوڑ دو۔
سینیٹ اصلاحات بارے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ دھاندلی کے عادی ہیں، ان کا کیسے راستہ روکنا ہے؟ ابھی طریقہ کار نہیں بتائیں گے۔ حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ کچھ نکات پر اگلے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے گلگت بلتستان کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ 2018ء کی دھاندلی کا ری پلے تھا۔ ریاستی مشینری اور اداروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔
اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک (پی ڈی ایم) کے سربراہ اجلاس میں 12 نکاتی ’میثاق پاکستان‘ پر اتفاق کرلیا گیا۔اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت سربراہی اجلاس ہوا جس میں پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔اجلاس میں مریم نواز نے بھی والد نواز شریف کی جگہ شرکت کی۔اجلاس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال اور حالیہ گلگت بلتستان انتخابات کا جائزہ لیا گیا جبکہ چارٹر آف پاکستان پر بھی مشاورت کی گئی۔اپوزیشن اتحاد کے اعلامیے کے مطابق سربراہ اجلاس میں 12 نکاتی میثاق پاکستان پر اتفاق کیا گیا جس کے مطابق وفاقی، اسلامی، جمہوری، پارلیمانی آئین پاکستان کی بالادستی اور عمل داری اور پارلیمنٹ کی خود مختاری یقینی ہو۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیاست سے اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلی جنس اداروں کے کردار کا خاتمہ اور آزاد عدلیہ کا قیام یقینی بنایا جائے جبکہ آزادانہ، غیرجانبدارانہ اورمنصفانہ انتخابات کیلئے اصلاحات اور انعقاد شامل ہے۔میثاق پاکستان میں عوام کے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق کا تحفظ، صوبوں کے حقوق اور 18ویں ترمیم کا تحفظ، مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام، اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کا دفاع، انتہا پسندی اور دہشتگردی کا خاتمہ اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے نکات شامل ہیں۔اعلامیے کے مطابق مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کیلئے ہنگامی معاشی پلان جبکہ آئین کی اسلامی شقوں کا تحفظ اور عمل درآمد بھی نکات میں شامل ہیں۔
